اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے

ہوسکتا ہے ایک چیز تمیہں نا گوار گزرے اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو …….

کوئی آیت امید دیتی ہے کوئی حوصلہ دیتی ہے کوئی آیت نصیحت کرتی ہے کوئی آیت ڈراتی ہے تو کوئی آیت خوشخبری دیتی ہے آیات بولتی ہیں مگر ہر انسان کو ان کی سمجھ نہیں آتی ۔جو کوشش کرے انہیں سمجھنے کی اسے ہی ان کی سمجھ آتی ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے جتنی چاہتا ہے سمجھ بوجھ آتا کر دیتا ہے

تو میں بات کر رہی تھی اس آیت کی کہ کتنی خوبصورت ہے یہ آیت نصیحت بھی ہے اور امید بھی بعض اوقات ہم کسی چیز کے کسی شخص کے پیچھے دیوانے ہو جاتے ہیں ہماری ہر دعا کا آختتام اس چیز کے مل جانے کی دعا پر ہوتا ہے مگر اللہ کیا فرماتے ہیں اپنے بندے کو کیا نصیحت کر رہے ہیں کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو ۔

آج سے ایک بات ذہن میں بیٹھا لیجئے کہ جو ہمیں نہیں ملا وہ ہمارے لیے اچھا نہیں تھا اور جو مل گیا ہے وہی ہمارے لیے بہتر ہے ۔میرا تو پختہ یقین ہے جو بھی ہوتا ہے جو بھی ہوتا ہے اللہ نے اس میں ہمارے لیے مصلحت رکھی ہوتی ہے ۔بظا ہر اگر کسی چیز میں خیر نظر نہ بھی آئے تو بھی یہ پختہ یقین ہو کہ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہے تو آپ پر سکون ہو جائیں گے خیر کی امید کرنا بھی ایک خیر ہے بھلائی ہے اور اللہ پاک تو اپنے بندے کے ساتھ ویسا معاملہ فرماتے ہیں جیسابندہ اپنے رب کے بارے میں گمان رکھتا ہے ۔

اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے اس بارے میں میں نے ایک لوک کہانی کہیں سے سنی تھی بہت پہلے کی بات ہے اور تب سے وہ کہانی میرے دل میں بیٹھ گئی تب سے اب تک وہ کہانی میں نے بہت سے لوگوں سے شئر کی آج آپ لوگوں سے بھی کرتی ہوں شاید کسی کے دل میں بیٹھ جائے اور پھر ساری ذندگی وہ بھی میری طرح کہے اور یقین رکھے کہ اللہ جو بھی کرتےہیں بہتر کرتے ہیں ۔

کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ریاست کا ایک بادشاہ تھا اور بادشاہ کا ایک وزیر تھا جو وزیر تھا اس کی عادت تھی ہر بات پر کہنا کہ اللہ جو کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں اللہ کے ہر کام میں انسان کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔ایک دفعہ اس وزیر کا بیٹا مر گیا ۔مگر وزیر اپنے بیٹے کی موت پر بھی ہر کسی سے یہی کہتا کہ اللہ جو کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔لوگ کہتے عجیب آدمی ہے بیٹے کی موت پر بھی ایسا کہ رہا ہے ۔

پھر ایک دن بادشاہ کی سب سے چھوٹی انگلی کٹ جاتی ہے کسی طرح اور وزیر کہتا ہے اللہ جو کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں بادشاہ کو بہت غصہ آتا ہے سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ وزیر کو قید خانہ میں ڈال دو وزیر نے گستاخی کی ہے سپاہی وزیر کو قید خانہ میں ڈال دیتے ہیں کچھ دن گزرتے ہیں بادشاہ شکار کے لیے اکیلا جنگل کی طرف نکلتا ہے جب جنگل پہنچتاہے تو بادشاہ کو کچھ لوگ پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں آج ہم تمہیں اپنے سردار کی خوشی کے لیے ذبحہ کریں گے بادشاہ بہت خوف ذدا ہوتا ہے ہے سوچتا ہے اب تو مر گیا ۔مگر کچھ ہی دیر میں وہ لوگ بادشاہ کا جائزہ لینا شروع ہو جاتےہیں اور اچانک بادشاہ سے کہتے ہیں تم جا سکتے ہو ۔بادشاہ بہت حیران ہوتا ہے کہ یہ کیا ۔وہ کہتے ہیں تم معزور ہو تمہاری ایک انگلی نہیں ہے ہمیں اپنے سردار کو خوش کرنے کے لیے بالکل ٹھیک انسان چاہئے ۔

بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور واپس محل جاتا ہے جا کر سپاہیوں کو حکم دیتا ہے کہ وزیر کو چھوڑ دیا جائے پھر وزیر کو اپنے پاس بلاتا ہے اور کہتا ہے تم ٹھیک کہتے تھے اللہ جو کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں قید خانہ میں ڈال دیا تھا وزیر کہتا۔اگر آپ مجھے قید نہ کرتےتو میں بھی آپکے ساتھ شکار پر جاتا اور وہ لوگ مجھے ذبحہ کر دیتے ۔اللہ جو کرتے ہیں بہتر کرتے ہیں ۔

یہ تو ایک لوک کہانی تھی مگر آپ چاہیں تو اس سے بہت اچھا سبق حاصل کر سکتےہیں⁦.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: