رومی رحمتہ اللہ اور روح

جب روح کے اندر یہ احساس ہوگا کہ مَیں لُٹ گئی میرا نقصان ہوگیا تب ہی وہ روئے گی، اور یہ احساس تب ہوگا !!! جب بندہ غفلت سے بیدار ہوگا۔ جب روح کو بیداری مِل جائے، اُسے احساس ہو کہ میرا نقصان ہوگیا پھر وہ روتی چلاتی ہے۔ قلب بصیر ہو جائے نفس عبرت گیر ہو جائے،۔

تب یہ مقامِ بیداری حاصل ہوتا ہے۔ عابدوں کی روح عالمِ ملکوت کےلیے تڑپتی ہے، عارفوں کی روح عالمِ جبروت کےلیے تڑپتی ہے عاشقوں کی روح عالمِ لاہوت کےلیے تڑپتی ہے۔ سفر اِلی اللَّہ کا آغاز بیداری سے ہوتا ہے۔ اور بیداری “بشنو” سے ہوتی ہے۔ یعنی “سُنو” اور اپنے اندر لُٹ جانے اور روحانی نقصان کے ہو جانے کا احساس پیدا کرو۔۔! (حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ تعالی علیہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: