حضرت بلال رضہ کی منادی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ غزوہ خیبر کے مال غنیمت میں سے مدعم نامی ایک غلام نے ایک شملہ پرالیا جب خیبر سے چل کر لوگ وادی القری پہنچے تو ایک ناگہانی تیر اس غلام کو لگا اور اس کا کام ہی تمام ہو گیا۔

مسلمانوں نے کہا کہ اس کو جنت مبارک ہو ۔ یہ سن کر حضور اکرم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ جس شملہ کو اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے لے لیا تھا وہ اس پر آگ کا شعلہ ہورہا ہے۔ لوگوں نے یہ سنا تو یہ اثر ہوا کہ ایک شخص نے جوتے کا تسمہ لیا تھا اس کو بھی لا کر سامنے ڈال دیا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ آگ کا تسمہ ہے آگ کا‘‘۔ خیبر ہی میں ایک اور واقعہ گذرا کہ ایک مسلمان نے وفات پائی تو جب اس کا جنازہ تیار ہوا تو آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ نے فرمایا تم لوگ اپنے بھائی کے جنازہ کی نماز پڑھ لو ۔ یہ سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا اور وہ سمجھے کہ کوئی بات ہے ۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا۔ تمہارے بھائی نے مال غنیمت کی ایک چیز چھپا کر لی ہے ، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو جھوٹے موتیوں کا ایک ہار نکلا جو چند پیسوں سے زیادہ کانہیں تھا ۔ اس وقت قاعد ہ یہ ہوا کرتا تھا کہ جب لڑائی ختم ہو جاتی تو حضرت بلال تین بارمنادی کر تے سب لوگ اپنا اپنا مال غنیمت لے کر آتے ، پھر اس میں سے پانچواں حصہ نکالا جا تا اور اس کے بعد تقسیم کر دیا جاتا اور پھر اس کے بعد جو لے کر آ تا وہ قبول نہ ہوتا اور وہ مجرم قرار پاتا، بلکہ بھی سزا کے طور پر اس کا سارا سامان جلا دیا جاتا۔
ایک دفعہ اس طرح تقسیم وغیرہ کے بعد ایک شخص بالوں کی ایک لگام لے کر آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ ہم نے لوٹا تھا فرمایا کیا تم نے بلال کی تین دفعہ منادی نہیں کی تھی؟ اس نے کہاکی تھی ، پو چھا پھر اس وقت کیوں لے کر نہیں آۓ ۔ اس نے معذرت کی فر مایا تم اس کو قیامت میں لے کر آنا ، میں نہیں قبول کرتا ۔ اعمال کو ہدایت کی گئی کہ ان کو جو ملے اس کو مسلمانوں کے بیت المال میں لا کر پیش کر یں فرمایا ” اے لوگو! جو ہمارے کی کام پر مقرر ہو وہ ایک سو ئی بھی چھپا کر لے گیا تو وہ ’غلول‘‘ ہے ۔ وہ اس کو قیامت کے دن لے کر آۓ گا‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: