نفسانی اور حمانی محبت کا بدلہ

حضرت یوسف علیہ السلام ایک جگہ سے جارہے تھے آواز سنی کہ ویرانہ میں کوئی آواز دے رہا ہے

(سبحان من جعل الملون عبيد بالمعصية وجعل العبيد ملوكابالطاعة)

پاک ہے وہ ذات جس نے بادشاہوں کو نافرمانی کی وجہ سے غلام بنادیا اور غلاموں کوفرمانبرداری کی وجہ سے وقت کا بادشاہ بنادیا ۔سبحان اللہ واقعی اللہ تعالی ایسی ہی ذات ہے جو اس کی اطاعت کرتا ہے اللہ تعالی اس کو دنیا میں بھی عزتیں دیتے ہیں تو حضرت یوسف علیہ السلام نے پوچھا کہ اے بڑھیا تو کون ہے؟ کہنے لگی انا التي اشتريتك بالجواهر والذهب وافضت‘‘میں ہی وہ ہوں جس نے تمہیں سونے چاندی ہیرے اور موتیوں کے بدلے خریدا تھا۔اللہ اکبر
زلیخا کو یوسف علیہ السلام سے محبت تھی ملکہ سے ہٹا کے بھکارن بنادی گئی اور یوسف علیہ السلام کواللہ تعالی سے محبت تھی اللہ نے غلامی سے نکال کر وقت کا بادشاہ بنادیا۔ یہی نفسانی اور رحمانی محبت میں فرق ہوتا ہے ہر دور ہر زمانہ میں جو یوسف علیہ السلام سے نقش قدم پر چلے گا اللہ اسے فرش سے اٹھائیں گے اور عرش تک پہنچائیں گے اور جوزلیخا کے نقش قدم پرخلوق کی محبت میں گرفتار ہوگا اللہ تعالی اسے ملکہ کے درجہ سے ہٹا کر اس کو بھکارن بنا کر کھڑا کر دیں گے اس لیے اللہ کی محبت اصل ہے ہمیں اللہ تعالی سے اللہ کی محبت مانگنے کی ضرورت ہے اللہ تعالی کی محبت جب دل میں ہو تو پھر غم غم نہیں رہتا ۔

( تمناۓ دل ص ۳۵ )
کریم مجھ پر کرم کر بڑے عذاب میں ہوں
کہ تیرے سامنے بیٹھا ہوں اور حجاب میں ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: