ادب کا مقام

حضرت سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ گهوڑے پر سوار ہوکر اپنے پیر و مرشد کی درگاہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے اور آپ کے مُرید حضرت شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ گهوڑے کی لگام پکڑ کر آگے آگے چلا کرتے

ایک دن دورانِ سفر آپ کی نظر اچانک شمس الدین صاحب کے ننگے پاوں پر پڑی – دیکها پاوں سےخون بہہ رہا ہے.

آپ نے درگاہ پہنچ کر اپنے جوتے عطا فرمائے اور فرمایا پہن لیں.واپسی پر حسبِ معمول گهوڑے کی لگام پکڑے جارہے ہیں. مرشدِ عالی کی نگاہ پاک اٹهی دیکها شمس الدین تو ننگے پاؤں جارہا ہے

خواجہ سلیمان تونسوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جوتے کدهر ہیں کیوں نہیں پہنے ,دست بستہ عرض گزار ہوئے حضور نے مجھے جو تاج بخشا وہ میں نے سر پر بانده لیا

مرشد پاک نے فرمایا گهوڑا روکو!
آپ نے روک لیا –

مرشد عالی مقام نے اتر کر شمس الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو گلے لگایا اور فرمایا لوگ علم و عمل کی وجہ سے عارف ہوتے ہیں مگر تم ادب کی وجہ شمس العارفین ہو گے –

ادب کا یہ صلہ ملا کہ آج آپ کو دُنیا شمس العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے ہی یاد کرتی ہے جیسا کہ واصف علی واصف صاحب کا فرمان ہے
“ادب اُس مقام تک لے جاتا ہے جس سے علم بھی لاعلم ہوتا ہے “

“حوالہ: کنزالعرفان”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: