دوستی پر سب کچھ قربان

تیسری صدی ہجری کے مشہور عالم واقدی لکھتے ہیں میرے دو دوست تھے۔ جن میں ۔ ہاشمی تھا۔ ہم میں اس قدر اتحاد تھا کہ یک جان سہ قالب ہو گئے تھے۔ ایک بار میں سخت مدتی میں مبتلا تھا ۔ اس حالت میں عید کا زمانہ آ گیا۔

بیوی نے کہا۔ہم لوگ تو صبر کر سکتے ہیں لیکن بچوں کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جا تا ہے کیونکہ وہ برے حال میں ہیں ہمسایوں کے بچوں کو عمدہ کپڑے پہنے ہوۓ دیکھیں گے تو ان کا کیا حال ؟ اگر کسی حیلہ سے کچھ روپیہ پیدا کر یں تو میں ان کو کپڑے بنوادوں ‘‘ میں نے اپنے ہاشمی دوست سے اعانت کی درخوات کی ۔ اس نے ایک ہزار درہم کی تھیلی مجھے بھیج دی, عین اس حالت میں مجھے میرے دوست نے خط لکھا۔ اور وہی مدعا بیان کی,میں نے بند تھیلی اس کے پاس بھیج مسجد میں رات بسر کر نے چلا گیا۔ بیوی کے پاس جاتے ہوئے شرم دوسرے روز گھر گیا۔ اور بیوی حال سنا۔ تو اس نے مجھے سرزنش کرنے کی بجاۓ میرے اس فعل کو پسند کیا۔ اسی حالت میں میرا ہاشمی دوست تھیلی کو اسی مہر بند حالت میں لے کر آیا۔اور کہا کہ سچ سچ بتاؤ تم نے میری بھیجی ہوئی تھیلی کا کیا کیا؟‘‘ میں نے اصلی واقعہ بیان کر دیا۔ اس نے کہا۔” جب تم نے مجھ سے اعانت کی درخواست میرے پاس اس تھیلی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس لئے میں نے اپنے دوسرے دوست سے درخواست کی تو اس نے میرے پاس خودمیری ہی مہر بندتھیلی بھیج دی۔‘‘ غرض یہ کہ ہم نے پہلے اپنی بیوی کے لئے سو درہم نکالے اور پھر باقی رقم کے باہم تقسیم کر لیا ۔ اس دوستی و قربانی کے نثار جائے کہ جب امتحان و آزمائش کا وقت آیا تو ایثار وقربانی میں بھی ایک دوسرے سے کم نہ نکلا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: