عجیب و غریب شاہی فرمان

بنوامیہ کے بادشاہ ہشام بن عبدالملک نے اپنے ایک قاصد خاص کے ساتھ ایک شاہی فرمان امام الحدیث حضرت ’’اعمش‘‘ کے پاس اس مضمون کا بھیجا .

کہ آپ حضرت امیر المومنین جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی خوبیاں اور حضرت امیر المومنین حضرت علی المرتضی کی برائیاں لکھ کر میرے پاس روانہ کیجئے ۔ امام اعمش نے سلطان کا خط پڑھ کر ایک بکری کے منہ میں دے دیا۔ جب بکری اس کو چپا چکی تو آپ نے شاہی قاصد سے فرمایا کہ اپنے بادشاہ سے کہہ دینا کہ یہی اس کے فرمان شاہی کا جواب ہے ۔ سلطانی قاصد گڑ گڑا کر کہنے لگا کہ حضرت! ہمیں تو آپ سے تحریری جواب لانے کا حکم ہے۔ اگر ہم خالی ہاتھ لوٹے تو ہماری جان کی خیر نہیں قاصد کی گریہ وزاری اور بے قراری دیکھ کر آپ کو رحم آ گیا تو آپ نے یہ خط تحریر فرما کر قاصد کے حوالے کر دیا۔ اے امیر المومنین! اگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ میں تمام دنیا بھر کی خوبیاں تھیں تو تجھ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اور اگر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ میں ثانی بھر کی خوبیاں تھیں تو اس سے تجھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا تو خاص اپنے نفس کی خبر لے اور اپنے اچھے برے عمل کی فکر کر۔ والسلام ۔

(ابن خلکان جاس ۲۱۳)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: