بادشاہ کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں

عبدالرحمان کے بعد ہاشم بعمر ۳۳ سال مندنشین ہوا اس بادشاہ نے علماء واطباء کی دستگیری کی عربی مدارس ملک میں جاری کئے تمام ملک میں تعلیم مفت کر دی اور ان کا سارا خرچ خزانہ پر ڈالا۷۹۲ء میں اس نے وفات پائی ۔

مرنے سے قبل اپنے بیٹے احکام کو بلایا جو اس وقت ۲۲ سالہ نو جوان شہزادہ تھا اس سے کہا اے فرزند! سلطنت اور حکومت کا مالک اللہ تعالی ہے جب چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جب چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے ۔ جب تو اس عطایاۓ ربانی سے فیضیاب ہو تو اس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ نیکی کر خصوصا ان کے ساتھ جو ہماری حفاظت میں ہیں ، امیر اور غریب کے ساتھ برابر عدل ظلم روا نہ رکھ ظلم تباہی کا پیش خیمہ ہے، اپنی رعایا پر مہربان رہنا اور حکومت صرف ان لوگوں کو عطا کر جو کہ صفات پسند یدہ رکھتے ہوں، اپنے وزراء اور اعمال حکومت کو بے رمی سے سزا دے جور عایا پرختی کر میں اور محصولات (ٹیکس ) کی زیادتی سے رعایا کو ہمیشہ تباہ حال رکھیں۔ ایسا نہ ہونے دینا۔ جب تو فوج کشی پر مجبور ہوتو یا در کھ کہ ہمارالشکر محافظ ملک ہو، جو وعد ہ ہو پورا ہو کام نکالنے اور ٹال دینے کے لئے نہ ہو ۔اے فرزند ! اس بات سے غافل مت رہ کر رعایا کی محبت ملک کی حفاظت ہے اور رعایا کی نارانسنگی و حقارت زوال سلطنت کا باعث ہے، رعایا میں سب سے زیادہ خبر گیری کے قابل کاشت کاروں کا فرقہ ہے ۔ یہ وہ چگنتی اور حفاکش لوگ ہیں جو ہماری روزی کے لئے زمین سے غلہ نکالتے ہیں اور ہم اپنے محلوں میں آرام سے بیٹھ کر کھاتے ہیں ، ان کی زراعت ان کے باغات اور ان کی ہر قسم کی پیداوار کو پامالی اور تیانا سے بچانا ہر بادشاہ کا فرض ہے ۔اے فرزند! اگر میری باتوں پر مل کرو گے تو رعایا بھی خوشحال اور آ بادر ہے گی اور تمہارا شمار بھی روۓ زمین کے نامور بادشاہوں میں ہوگا ۔

( تاریخ این ص ۲۴۶،۴۴۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: