بت سے غیبی آواز نے مسلمان کر دیا

راشد بن عبدربہ ﷺ کا بیان ہے عرب کے ایک قبیلے کے بت کا نام سواع تھا…. لوگوں نے مجھے کچھ تحائف دیئے تا کہ سواع کے ہاں پڑھا آؤں …… میں سواع کے پاس جاتے ہوۓ ایک اور بڑے بت کے پاس پہنچا تو وہاں سے آواز آئی:….. “الـعـجـب كـل الـعـجـب مـن خـروج نبـي مـن بـنـي عـبـدالـمـطلب يحرم الزناء والواء ذبح الاصنام وحرمت السماء ورسينا بالشهب العجب كل العجب…“ اس کے بعد ایک اور بہت سے آواز سنائی دی:….. “ترك الضماد وكان يعبد مرة اخرج نبي يصلى الصلوة ويامر بالزكوة والصيام. پھر ایک اور بت سے آواز آئی.

ان الـذي ورثـه الـنبـوت والمهدى
بـعـد ابـن مـريـم مـن قـريـش احمد

یہاں سے فارغ ہو کر میں سواع کے پاس گیا…. میں نے دیکھا دولومڑیاں اس کے اردگردگھوم رہی ہیں اور لوگوں نے جو نذر پیش کی تھی ان سے لطف اندوز ہورہ ہیں … بیر ہونے کے بعد ان لومڑیوں نے ٹانگ اٹھا کر بت پر پیشاب کیا اور چلتے بنیں ….. میں نے یہ نظارہ دیکھ کر کہا……

ارب تبـول الشـعبـان بـراسـه
لـقـد ذل مـن بـالـت عـليـه الثعالب

یہ وہ وقت تھا , حضور صہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے.میں مدینہ پہنچا…ان دنوں میرا نام ظالم تھا…. میرے پاس ایک کتا تھا جسے راشد کہتے تھے. حضور ﷺ نے مجھے دیکھ کر پوچھا… تمہارا نام کیا ہے؟

میں نے بتایا….ظالم …..

آپ ﷺ نے دریافت کیا اس کتے کا کیا نام ہے؟

میں نے کہا:…..راشد …… آپ ﷺ نے فرمایا: آج سے تمہارا نام راشد ہوگا اور تمہارے کتے کا نام ظالم… میں نے اسلام قبول کر لیا اور حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد عرض کیا ۔ کہ مجھے میرے علاقے میں ایک جاگیر عطا کی جائے …. حضور ﷺ نے مجھے فرمایا…. جہاں تک تمہارا گھوڑا دوڑ سکے اور تم تین پتھر پھینکتے چلے جاو …اتنی جاگیر تمہاری ہوگی… ایک لوٹا پانی کا مجھے دے کر اس میں کلی کر کے تھوڑا سا پانی ڈال دیا اور فرمایا….اسے اپنی زمین میں گرادو اور اپنی ضرورت سے زائد پانی کے استعمال سے لوگوں کو نہ روکیں…..
راشد نے ایسا ہی کیا۔….. پانی کا ایک چشمہ ابل پڑا…. کھجوروں کے درخت لگاۓ گئے…. گردونواح کے لوگ بیماری سے شفا حاصل کرنے کے لئے اس چشمہ سے غسل کرتے تھے اور چشمے کا نام ماء الرسول رکھ گیا….. کہتے ہیں کہ راشد نے جہاں پتھر پھینکا تھا ابھی تک تمام خراج و معاملات سے باہر ہے….. حول اللہ مدارج النو)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: