ہابیل و قابیل

قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں قابیل وہابیل کاقصہ ہے۔ اور ہم آپ کو سناتے ہیں کہ

حضرت آدم علیہ السلام اور حواعلیہا السلام سے بہت اولادہوئی ،انھیں میں دو بچے قابیل وہابیل تھے۔قابیل بڑالڑکا تھا لیکن یہ ماں باپ کا کہنا نہیں مانتا تھا، ہابیل چھوٹا بھائی تھا جو ماں باپ کا کہنا مانتا تھا۔اقلیما ایک لڑکی تھی جس سے قابیل شادی کرنا چاہتا تھا مگر حضرت آدم علیہ السلام وحوا علیہا السلام اس کی شادی اپنے چھوٹے بیٹے ہابیل سے کرنا چاہتے تھے، جو نیک اور شریف تھا، اس لئے قابیل اپنے ماں باپ اور بھائی کا دشمن ہو گیا اللہ نے حکم دیا کہ تم دونوں قربانی کر کے پہاڑ پر رکھ آؤ۔ جس کی قربانی قبول ہوگی اس سے اقلیما کی شادی کی جائے گی ،اللہ کو اپنے نیک بندے پسند ہوتے ہیں اور وہ ان کی مدد کرتا ہے، آسمان سے ایک آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کو لے گئی، یعنی ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی ، اب اس کے بھائی قابیل کو بہت غصہ آیا، اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تجھ کوقتل کر دوں گا۔ ہابیل نے کہا:اللہ نیک بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تم مجھ سے لڑو گے تو میں تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا ، آخر ایک دن قائیل نے ہابیل کوقتل کر دیا.
دنیا میں یہ پہلاقتل تھا جو قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کا کیا قتل کرنے کے بعد قابیل کو فکر ہوئی کہ ہابیل کی لاش کا کیا کرے کس طرح چھپاۓ ،اس نے دیکھا کہ ایک کوا چونچ سے زمین کھود کر ایک دوسرے مرے ہوئے کوے کو دفن کر رہا ہے، تب اس نے بھی اپنے بھائی ہابیل کو زمین کھود کر دفن کر دیا اور خود جا کر آگ کی پوجا کرنے لگا، حضرت آدم علیہ السلام وحواعلیہا السلام کو بہت رنج ہوا۔ قابیل و ہائیل دونوں بھائیوں کے جھگڑے سے ہم کو سبق لینا چاہئے ، ہمارا حقیقی بھائی یا مسلمان بھائی اگر ہم پر زیادتی کرے تو بہتر یہ ہے کہ ہم صبر کر یں، اور اپنے بھائی پر ہاتھ نہ اٹھائیں قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کیا، قیامت تک لوگ اس پر لعنت کرتے رہیں گے اور آخرت میں اللہ کے عذاب کا مستحق ہوا، اور ہابیل کو قیامت تک لوگ اچھا کہتے رہیں گے ،اور جنت کا وارث ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: