قصہ حدیبہ

ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ منورہ میں رہتے ہوۓ چھ سال ہوئے تھے کہ آپ ﷺنے خواب میں دیکھا کہ آپ مکہ تشریف لے گئے اور آپ نے عمرہ ادا کیا .

چنانچہ آپ نے صحابہ کے ساتھ مکہ معظمہ جا کر عمرہ کرنے کی تیاری شروع کر دی ، مکہ کے کافروں نے کہا کہ ہم مکہ میں آپ کو ہرگز نہ آنے دیں گے ،غرض کافروں سے گفتگو کے بعد چند باتوں پر صلح ہوئی ، ان میں یہ بات بھی تھی کہ آپ آئندہ سال آ کر عمرہ کریں ، اور دس برس تک ہمارے اور آپ کے درمیان لڑائی نہ ہو اور کافروں کے دوست قبیلوں سے مسلمان نہ لڑ یں اور مسلمان کے دوست قبیلوں سے کافر نہ لڑیں ، وہاں دو قبیلے تھے ایک قبیلہ کافروں کا ساتھی تھا اور دوسرا قبیلہ مسلمانوں کا ساتھی تھا، اس کو صلح حدیبیہ کہتے ہیں ۔ حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جس مقام پر صلح ہوئی تھی آپ اس صلح کے بعد مد ینہ طیبہ تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں اللہ تعالی نے سورہ فتح نازل کی جس میں اس صلح کو فتح قرار دیا، چونکہ مصلح آئند ہ فتح مکہ کا سبب بنی ،اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

بسم الله الرحمن الرحيم انا فتحنا لك فتحا مبينان (اقت پ۲۶)

ترجمة: بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی۔ اسی سال اور کئی جنگیں چھوٹی چھوٹی کافروں اور یہودیوں سے ہوئی جن سے جنگ خیبر مشہور ہے اس جگہ سات قلعے تھے یہودیوں نے سب کے دروازے بند کر دیئے کہ اس میں گھس کر بیٹھ گئے اور اندر سے تیر اندازی کرتے رہے، آخر ایک ایک کر کے سب قلعے فتح ہو گئے ۔

اس سال خیبر میں ایک یہودی عورت نے گوشت میں زہر ملا کر آپ کو دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اس گوشت نے مجھ سے کہہ دیا کہ مجھ میں زہر ملا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: