برائی سے روکنا اکابر کی سنت ہے

آج حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ جیسا عالم ہمیں کہاں ملے گا .

جنہوں نے ایک مرتبہ خلیفہ ہشام بن الملک کے ساتھ طواف کیا ، اور ان کے ساتھ ہی کعبه شریف میں داخل ہوئے حالانکہ خلیفہ نے لوگوں کو اس وقت داخل ہونے سے روکنے کا حکم دیا تھا ،اور حکم دیا تھا کہ ان کے لئے مطاف ( طواف کی جگہ کو خالی کر دیا جائے لیکن حضرت سالم پر بھی طواف میں مشغول رہے ،تو خلیفہ نے چاہا کہ ان کو تنبیہ کرے۔ چنانچہ حضرت سالم کو اپنی مجلس میں طلب کیا ، وہ جب تشریف لائے تو خلیفہ کے مسند پر تشریف فرما ہو گئے اور خلیفہ کو بغیر کنیت و لقب کے صرف نام لے کر مخاطب کیا اور ان سے رہی سا مصافحہ کیا تو لوگوں نے اس معاملہ پر ان کو ملامت کی اور خلیفہ ہشام نے ان سے کہا: آپ میری اجازت کے بغیر میرے ساتھ طواف کیوں کر ر ہے تھے؟ اور میری با اجازت میری مسند پر کیوں بیٹھے ہے؟ اور آپ نے صحیح طریقے سے میرے ساتھ تخاطب کیوں نہ کیا؟ آداب مجلس کا خیال کیوں نہ رہاتو حضرت سالم نے ان سے فرمایا آپ نے لوگوں روکا ہے ۔ ایسے گھر کے طواف سے روک دیا جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے ارشادفرماتے ہیں کہ اے بنو عبد مناف تم کسی بھی نفس کو دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں طواف اور نماز سے نہ روکو ، اور آپ نے ایک ایسی جگہ اپنی مسند کوا لگ لگوایا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔

سـواء الـعـاكف فيه والباد ومن يردفيه بالحاد بظلم نذقه
من عذاب اليم“ ’’ اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا ( سب برابر ہیں اور جو کوئی بھی اس کے اندر کسی بے دینی کا اراد ظلم سے کرے گا ہم اسے عذاب دردناک چکھائیں گے)۔

اوراگر مجھے یہ بات معلوم ہوتی کہ لوگوں نے آپ کی خلافت کو قبول کر لیا ہے اور آپ کو امیرالمؤمنین مان لیا ہے تو میں آپ کے ساتھ اسی طرح خطاب کرتا یہ سن کر خلیفہ نے ان کے ساتھ ملاطفت شروع کر دی اور ان سے بہت خوش ہوۓ ، اور ان کی خدمت میں بہت سامال بھیجا، لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ فرمایا کہ یہ مال ان ہی لوگوں کو واپس پہنچا دوجن سے تم نے یہ مال لیا ہے ۔ قول وفعل میں راست گوئی کے اس طرح کے کتنے ہوجاتے ۔ اس کے اثرات اس پر ظاہر ہو جاتے ہیں زبان اس کے ساتھ متفق واقعات تاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں ، اور انسان جس چیز کا عادی ہوتا ہے اور جس کو حق و کا یا شخص کس قدر قابل تعریف وخوش نصیب ہے جو سچ بولنے کا عادی ہو اور اللہ تعالی کے درج ذیل فرمان مبارک پرعمل پیرا ہوا۔

ياايها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين (اتب – ۱۹) ”اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہا کرو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: