ایک درہم کے بدلے جنت

امام ابوداؤ ورحمۃ اللہ علیہ ایک بارکشتی میں سفر کر رہے تھے.

انہوں نے دریا کے کنارے پر ایک آدمی کو چھینکنے کے بعد ”الحمدللہ کہتے ہوۓ سنا، چھینکنے والا الحمدللہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہنا سنت بھی ہے اور مسلمان بھائی کا حق بھی۔ امام کی کشتی آ گے نکل گئی ، آپ نے ایک دوسری کشتی ( چھوٹی کشتی ) ایک درہم کے بدلے کرائے پر لی ، چھینکنے والے کے پاس آۓ اور انہیں یرحمک اللہ“ کہا۔اس نے جواب میں یھدیکم اللہ“ ( اللہ آپ کو ہدایت دے ) کہا امام واپس اپنی کشتی پر آ گئے ، ساتھیوں نے ان سے ایسا کرنے کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے: ” مجھے خیال ہوا کہ ہوسکتا ہے، اس آدمی کی دعائیں قبول ہوتی ہوں۔ میرے یرحمک اللہ‘‘ کہنے کے جواب میں وہ یھدیکم اللہ کہے گا تو بہت ممکن ہے، اس کی یہ دعا میرے حق میں قبول ہو جاۓ ، اس لیے میں کشتی لے کر اس کے پاس گیا۔‘‘‘

رات کے وقت ایک غیبی آواز گونجی : کشتی والو! ابوداؤد نے ایک درہم کے بدلے اللہ سے جنت خرید لی ہے۔‘‘ ابوداؤد رحمۃ اللہعلی مشہور محدث ہیں ، ان کی سنن ابی داؤدشریف صحابہ میں شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: