سچے دل سے گواہی جہنم سے نجات

کیا سچے دل سے گواہی دینے سے جہنم حرام ہو جاتی ہے؟

✍️: محمد یوسف شکیل

(ایک مرتبہ) معاذ بن جبل رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا، اے معاذ! میں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول، تین بار ایسا ہوا۔ (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو (دوزخ کی) آگ پر حرام کردیتا ہے۔

اس حدیث سے یہ بات واضع ہو گی ہے کہ جو شخص سچے دل سے یہ گواہی دے يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،۔۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ہم بہت ہی آسانی سے یہ بات کہہ دیتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے آخر اس کا مقصد کیا ہے ان الفاظ کی فہم کیا ہے ان الفاظ کو بس زبان سے کہہ دینا کافی نہیں، بلکے اس کو سمجھے ہم کہ دیتے ہیں اور بعد میں ہم مدد کسی اور سے مانگتے ہیں، ذبح کسی اور کے لیے کرتے ہیں، قبروں کے مجاور بنے ہیں، قبروں کو سجدے کرتے ہیں، میرے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا میں اللہ کے علاوہ کسی کے لیے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔ لیکن ایسا نہیں ہے صرف سجدہ عبادت صرف اور اللہ کے لیے ہے مشکل کشا صرف اللہ ہے داتا رازق صرف اللہ ہے اللہ نے ہی سب کچھ بنایا ہے وہی عبادت کے قابل ہے اللہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، اسی طرح حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ بشر ہیں آپ کی طرف وہی کی جاتی آپ کو غیب کا علم نہیں ہے وغیرہ اس کلمہ کا مقصد یہ ہے جب یہ ہو گا تب ہی فائدہ ہو گا اور پھر ہی جہنم سے بچیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے عقیدوں کو درست فرمائے اور ہمیں صحیح معنوں میں اس کلمہ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین.
واللہ اعلم باالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: