ریاکاری ایک گناہ

موجودہ دور میں ہر شخص اپنی ظاہری حالت بہتر بنانے میں مگن ہے اور کسی کو باطن کی فکر ہی نہیں ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگ ظاہری طور پر بالکل سادہ مگر اندر سے علم و عمل کا سمندر ہوتے تھے مگر آج کل کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ آج معاشرے کا ہر شخص ظاہر بینی میں دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عبادات، جو کہ خالصتاً اﷲ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں، ان میں بھی ریاکاری اور دکھاوے کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ کئی لوگ عبادتیں اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں نمازی ، حاجی اور پرہیز گار کہیں۔

رب قدوس نے قرآن مجید میں ریاکاری کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چناںچہ ارشاد فرمایا: ترجمہ: ’’وہ لوگ بھی اﷲ کو ناپسند ہیں جو کہ اپنا مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت وہ نہ اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی روز آخرت پر۔‘‘ ( سورۃ النساء آیت 38)

قرآن حکیم میں ایک اور مقام پر اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: ’’اے ایمان والوں ! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو جو اپنا مال محض دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے نہ ہی آخرت پر ( سورۃ البقرہ آیت 264)

ان دونوں آیات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ریا کار اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اﷲ سے اس کو اجر کی توقع نہیں،کیوں کہ جس سے توقع ہوگی اُسی کے لیے عمل کیا جائے گا اور ریاکار کو خالق کے بجائے مخلوق سے اجر کی توقع ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کا آخرت پر بھی ایمان نہیں کہ اگر ایمان ہوتا تو ہرگز خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے اجر کی توقع نہ رکھتا اور آخرت کی باز پرس سے ڈرتا۔

قرآن پاک کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی نبی اکرمﷺ نے ریا کاری کی مذمت کی ہے اور ہر عمل خالصتاً اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ چناں چہ ایک دن صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ شرک اصغر سے ہے۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کی ’’یہ شرک اصغر کیا ہے؟‘‘ حضورﷺ نے فرمایا ’’ریا (شرک اصغر )ہے۔‘‘ (مسندامام احمد)

ریا کاری کرنے والا اپنے عمل سے غیر اﷲ کو خدا بنالیتا ہے اور اس کے لیے نیکی کرتا ہے۔ یہی تو شرک ہے کہ خدا کے مقابل کسی دوسرے کے لیے نیکی کی جائے۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں نبی اکرم نے صحابہ کرام سے فرمایا ’’جب الحزن سے پناہ مانگا کرو‘‘ عرض کیا ’’جب الحزن‘‘ کیا ہے؟ اﷲ کے رسولﷺ نے فرمایا : ’’جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے، اس میں وہ لوگ ڈالے جائیں گے جو کہ نیکی محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔‘‘ ( ترمذی)

اس حدیث مبارکہ سے ریا کاری کی تباہ کاری کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ وہ نیکیاں جو درحقیقت انسان نے کی تھیں، وہی نیکیاں اُسے جہنم میں لے کر جارہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ریا کاری والی عبادات بھی بندے کے لیے وبال بن گئی۔ بندے کو چاہیے کہ ہمیشہ جو بھی نیکی کرے وہ خالصتاً اﷲ کی رضا کے لیے کرے۔

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ جو کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ’’ قیامت کے دن تین بندے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ ان میں سے پہلا شخص ایسا ہوگا جو کہ شہید ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ اس کو دنیا میں دی جانے والی نعمتیں گنوائے گا۔ شہید نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ پھر اﷲ تعالیٰ اس سے پوچھے گا تو نے ان سب نعمتوں کے مقابل دنیا میں میرے لیے کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا میں نے تیری راہ میں اپنی جان قربان کردی ۔

رب فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے جان اس لیے قربان کی کہ لوگ تجھے بہادر اور شہید کہیں، تو شہید کہلا چکا۔ فرشتوں! لے جائو اس کو اور ڈال دو جہنم میں۔ فرشتے اس کو گھسیٹے ہوئے لے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے۔ پھر ایک دوسرا شخص رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگا جو عالم و قاری ہوگا۔ رب تعالیٰ اس کو بھی دنیا میں دی گئی نعمتیں گنوائے گا۔ وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ پھر رب تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے مقابل دنیا میں میرے لیے کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا میں نے علم سیکھا اور سکھایا، قرآن پاک پڑھا اور پڑھایا۔
رب تعالی فرمائے گا تو نے علم سیکھا اور سکھایا کہ عالم کہلایا جائے، قرآن پاک اس لیے پڑھا اور پڑھایا کہ قاری کہلایا جائے، تو دنیا میں تو کہلا چکا۔ فرشتو! لے جائو اس کو اور ڈال دو جہنم میں۔ فرشتے اس کو گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیں گے۔

پھر آخر میں ایک سخی، رب کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ اس کو بھی دنیا میں دی جانے والی نعمتیں یاد دلوائے گا۔ وہ نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ پھر رب فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے مقابل دنیا میں میرے لیے کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا اے رب! میں نے اپنی ساری دولت تیری مخلوق پر لٹا دی۔ رب تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے دولت اس لیے خرچ کی کہ لوگ تجھ کو سخی کہیں۔ تو دنیا میں سخی کہلا چکا۔ فرشتوں لے جائو اس سخی کو اور ڈال دو جہنم میں۔ فرشتے اُسے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے۔‘‘ (مسلم و نسائی)

اس طویل حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ عبادت وہی قابل قبول ہے جو خالصتاً اللہ عزوجل کی خوشنودی اور اُس کی رضا کے لیے کی جائے ،جب کہ ایسی عبادت جو اللہ کے بجائے کسی اور کو دکھانے کے لیے کی جائے ، وہ خواہ کوئی بھی کرے ، جہنم کا ایندھن ثابت ہوگی ۔

یاد رکھیے شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ پہلے تو کسی کو بھی کوئی نیک اعمال کرنے نہیں دیتا، لیکن پھر بھی اگر کوئی نیک اعمال کرتا ہے تو شیطان اس پر مختلف قسم کے حملے کرتا ہے۔ کسی کی نیت میں غرور و تکبر اور کسی کی نیت میں ریاکاری اور دکھاوا شامل کردیتا ہے اور ان کی نیکیاں ضائع کروا دیتا ہے۔ اسی لیے بروز قیامت نیکیوں کی گنتی کے بجائے ان کا میزان پر وزن کیا جائے گا تاکہ اخلاص کا پتا چل سکے۔ اﷲ کی رضا کے لیے ایک روپیہ دینے والے کا وزن پہاڑ سے زیادہ ہوجائے گا اور پہاڑ جتنے وزن کے مال و دولت کا وزن ریاکاری کی وجہ سے ایک روپے سے بھی گھٹ جائے گا۔ رب تعالیٰ ہر مسلمان کو رب کی رضا کے لیے نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ریاکاری، جو کہ آج ایک معاشرتی برائی بن گئی ہے، اس سے معاشرے کو پاک فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: