اللہ کی رحمت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک شخص تھا جب وہ فوت ہونے لگا تو اس نے اپنے بچوں کو بلایا اور پوچھا کہ بچو میں تم لوگوں کا کیسا باپ تھا؟

تو بچوں نے کہا اے ہمارے ابا جان آپ ہمارے اچھے باپ تھے۔ اس شخص نے اپنے بچو سے کہا جب میں فوت ہو جاؤں تو میری وصیت ہے کہ میری لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور پھر ان ٹکروں کو جلا دینا اور پھر جو راکھ بن جائے آدھی راکھ ہواؤں میں بکھیر دینا اور آدھی راکھ سمندروں میں بہا دینا۔ بچے زاروقطار رونے لگ گئے لیکن باپ کے پرزور اصرار پر وہ مان گئے۔

جب ان کا والد فوت ہوا تو انہوں نے اپنے ابا کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے، ان کو جلایا اور راکھ ہواؤں میں بکھیر دی اور سمندروں میں بہادری۔جب انہوں نے راکھ کو سمندروں میں بہا دیا اور ہواؤں میں بکھر دیا تو اللہ نے ہواؤں اور سمندروں کا حکم دیا گیا اس کی راکھ کو سمیٹ کر میرے سامنے پیش کرو۔ چنانچہ اس کی راکھ کو سمیٹ کر اللہ کے سامنے پیش کر دیا گیا۔اللہ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا؟ اور تو مجھ سے بھاگ کر کہا جا سکتا تھا؟ مجھے بتاؤ ایسا کیوں کیا تو نے؟
اللہ کے نبی یہ حدیث بتا رہے اور فرمایا: اس بندے نے جواب دیا یا اللہ جیسی زندگی تیری گزارنے کا حق تھا مجھ پر میں ویسی زندگی گزار نہیں سکا۔ تو میں تجھ سے ڈر گیا تھا کہ میں تیرا سامنا کیسے کروں گا؟ اس لئے میں نے اپنے بچوں سے کہا کہ مجھے جلا کر میری راکھ بہا دینا اور اڑا دینا اگر اللہ کو مجھ پر قدرت ہوئی تو مجھے زندہ کرے گا اور پھر ایسی سزا دے گا کہ اس نے ایسی سزا کسی کو نہیں دی ہوگی۔ حالانکہ یہ عقیدہ شرکیہ ہے لیکن یہ شرک جزوی ہے نہ کہ شرک قلی۔ شرک قلی یہ ہے کہ تو کبھی دوبارہ زندہ کر ہی نہیں سکتا لیکن اس نے کہا اگر تو نے قدرت پالی تو تو مجھے زندہ کر لے گا اور پھر مجھے ایسی سزا دے گا کہ ایسی سزا تو نے کسی کو نہیں دی ہوگی۔
اللہ نے اس سے سوال پوچھا کیا تجھے یقین تھا کہ ایک دن میں تجھ سے پوچھوں گا؟
اس نے جواب دیا ہاں اللہ مجھے یقین تھا اس لئے تو میں تجھ سے ڈر گیا تھا کہ گناہوں سے لپٹی زندگی کے ساتھ
میں تیرا سامنا کروں گا کیسے۔ یااللہ میں تجھ سے ڈر گیا تھا بس اس لیے یہ قدم اٹھ گیا مجھ سے۔ میں تجھ سے ڈر گیا تھا۔

“اس پر للہ نے فرمایا؛ جا تجھے معاف کر دیا میں نے”

Reference:
یہ حدیث مشکات شریف میں اللہ کی رحمت والے چیپٹر موجود ہے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: