حضرت سعد کی مدینہ سے محبت

حضرت سعد کو مدینہ سے اس قدرمحبت تھی کہ مکہ میں مرنا بھی پسند نہ تھا۔ بیماری جس قد رطول کھینچتی جاتی تھی .

اس قدران کی بے قراری بڑھتی جاتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشکبار دیکھ کر پوچھا روتے کیوں ہو؟’’ عرض کی‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ اسی سرزمین کی خاک نصیب ہوگی ، جس کو خدا اور رسول کی محبت میں ہمیشہ کے لیے ترک کر چکا تھا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تشفی دیتے ہوۓ ان کے قلب پر ہاتھ رکھ کر تین دفعہ دعافرمائی ۔ “اے خدا سعد کو صحت عطا کر ! سعد کوصحت عطا کر ا‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے جو الفاظ نکلے تھے وہ اس مریش بستر مرگ کے لیے آب حیات ثابت ہوۓ ، دعا مقبول ہوئی اور وہ صحت وتندرست ہوۓ ۔ ساتھ ہی یہ بشارت سنائی کہ اے سعد ! تم اس وقت تک نہ مرو گے جب تک تم سے ایک قوم کو نقصان اور دوسری قوم کونفع نہ پہنچ لے ۔ یہ پیشین گوئی عجمی فتوحات کے ذریعہ پوری ہوئی ، جن میں عجم قوم نے آپ کے ہاتھوں سے نقصان اور عرب قوم نے فائدہ اٹھایا ۔

مکہ سے واپس آنے کے بعد اسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر صدیق * سقیفہ بنی ساعدہ میں کثرت آراء سے مسند نشین خلافت ہوۓ ۔ حضرت سعد وقاص نے بھی جمہور کا ساتھ دیا اور خلیفہ اول کے ہاتھ پر بلا توقف بیعت کر لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: