نیک لوگوں کی روح قبض کرنے کا منظر !

جب موت کا وقت آتا ہے تو نیک لوگوں کے پاس فرشتے خوبصورت شکل میں خوشبودار لباس میں حاضر ہوتے ہیں اور آ کر انکو سلام کرتے ہیں۔ جیسے انکو سلام کرتے ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمارے لیے خوشخبری ہے۔
Reference:

الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤٮِٕكَةُ طَيِّبِيۡنَ‌ۙ يَقُوۡلُوۡنَ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمُۙ ادۡخُلُوۡا الۡجَـنَّةَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ●
ان کی کیفیت یہ ہے کہ جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ کفر وشرک سے پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ.
(سورہ النحل، 32)

فرشتوں کے پاس ریشم کا بنا ہوا ایک نہایت خوشبودار کفن ہوتا ہے۔اگر اس کفن کو دنیا میں رکھ دیا جائے تو پوری دنیا اس کفن کی خوشبو سے معطر ہو جائے۔ اس کی روح نکالنے سے پہلے ملک الموت اسے خوشخبری دیتے ہیں کہ اے نیک انسان تیرے اعمال سے تیرا رب خوش ہوا۔ تیرے لیے جنت کی خوشخبری ہے.
Reference:
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر# 4262

جوں ہی اس نیک انسان کی روح یہ خوشخبری سنتی ہے تو وہ نکلنے کے لئے مچلنے اور لپکنے لگتی ہے فرشتوں سے کہتی ہے نکالو مجھے جلدی اور وہ اس تیزی کے ساتھ باہر نکلتی ہے کہ انسان کو صرف اتنا تکلیف ہوتی ہے جیسے ایک تھیلی میں پانی کو کھول دیا جائے تو پانی فوراً بہے جائے۔
Reference:
مسند احمد حدیث نمبر 04/287

پھر فرشتے اس روح کو کفن میں لپیٹ کر پہلے آسمان پر جاتے ہیں تو پہلا آسمان خوشبو سے مہک جاتا ہے۔ آسمان کے فرشتے یہ سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی نیک روح ہے۔ اس کے لئے پہلے آسمان کے فرشتے دروازہ کھولتے ہیں اور سارے فرشتے اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور مبارک باد دیتے ہیں کہ تمہارے لئے جنت تیار ہے۔ پھر وہ دوسرے آسمان پر جاتی ہے تو پہلے آسمان کے فرشتے اسے دوسرے آسمان تک چھوڑنے جاتے ہیں اس طرح یہ سفر ساتویں آسمان تک جاتا ہے۔ ساتویں آسمان پر اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اس کا نام نیک لوگوں کے رجسٹر میں لکھ دیا جائے اور میرے اس پیارے بندے کی روح کو جا کر اس کی قبر میں اس کے جسم میں ڈال دیا جائے۔
References:

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر# 4262
صحیح مسلم حدیث نمبر 7221

ساتویں آسمان سے اس کا سفر واپسی کی طرف قبر تک شروع ہوتا ہے اور واپسی پر ہر آسمان پراسے خوش آمدید اور مبارکباد دی جاتی ہے اور اس کی روح کو اس کی قبر میں اس کے جسم میں آ کر ڈال دیا جاتا ہے۔ جب حساب کرنے والے دو فرشتے منکر اور نکیر اس کے پاس آتے ہیں تو ان دو فرشتوں کا رویہ ہر نیک اور برے اعمال والے انسان کے ساتھ ایک جیسا خوفناک ہوتا ہے تو وہ آتے ہی اپنی گرجدار آواز میں پوچھتے ہیں تمہارا رب کون ہے؟ تمارا دین کیا ہے؟ تمہارا نبی کون ہے؟
Reference:
صحیح ابو داؤد حدیث نمبر 4753

لیکن وہ ڈرتا نہیں ہے اور اسے اس ٹائم عصر کی نماز کا منظر دکھایا جاتا ہے تو فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے پہلے عصر کی نماز ادا کرنے دو تو فرشتے فرماتے ہیں کہ یہ عمل کا جہاں نہیں ہے یہ جزا کا جہاں ہے نماز دنیا میں ہوتی ہے تو اسے یاد آئے گا کہ ہاں میں تو مر چکا ہوں۔
Reference:
الترغیب، وترغیب، حدیث نمبر 5225

پھر وہ فرشتوں کے تین سوالوں کا ٹھیک سے جواب دے گا تو فرشتے مسکرا پڑیں گے اور اسے جنت کی کھڑکی کھول کر دکھائیں گے اور کہیں گے یہ تمہارا مقام ہے جنت میں۔ اسے جنت سے ایک بستر لاکر جنت کا بستر بچھا دیا جائے گا اور اسےجنت کا خوبصورت لباس پہنایا جائے گا اور جنت کی خوشبو جنت کی ہواؤں کا رخ اسکی قبر کی طرف موڑ دیا جائے گا اور اس کی قبر کو اتنا کھلا کر دیا جائے گا جہاں تک اسکی نظر جاتی ہوگی اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائیں گے اب قیامت تک یہاں پر سویا رہے۔ اس کے بعد اسے قبر میں انتہائی خوبصورت شکل والا آدمی دکھائی دے گا تو اس سے کہے گا کہ تم کون ہو ؟ تو وہ جواب دے گا کہ میں تمہارے نیک اعمال ہوں اور میری وجہ سے تم اس مقام پر ہو
References:

صحیح ابو داؤد حدیث نمبر 4751
سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 4268
جامع ترمذی حدیث نمبر 1071

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: