جہنم سے جنت میں داخلہ! کیوں؟

عن ابي هريرة عن رسول الله ﷺ قال ان رجلين ممن دخل الـنـار اشتد صياحهما فقال الرب تبارك وتعالى اخر جو هما فلما أخر جـا قـال لـهـمـا لاي شئ اشـتـصـيـا حـكـماقالافعلناذلك لترحمنا قال رحـمـتـي لـكـما ان تنطلقا فتلقيا انفسكما حيث كنتما من النار فيطلقان فيلقى أحد هما نفسه و عليه بردا وسلاماً ويقوم الاخر فلا يلقى نفسه فيـقـولـه الرب انا بعد ما اخر جتنى فيقول له نفسك كما القى صاحبک فـيـقـول يـارب انى لا رجو ان لا تعيدني ف الرب لک رجانک فید خلان الجنته جميعابرحمته ا

حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشادمروی ہے:۔ جہنم کے اندر دو آدمی اس قدر چلانے لگیں گی کہ ان کی چیخ و پکار کی وجہ سے ایک ہنگامہ پیدا ہو جاۓ گا ۔ آخر کار اللہ تعالی دونوں کو جہنم سے نکالنے کا فیصلہ فرماۓ گا اور ان سے پوچھے گا تم اس قدر کیوں چلا رہے تھے ۔

دونوں کہیں گے :اے پروردگار! تیری رحمت کی امید سے چلا رہے تھے ,تو اللہ تعالی فرمائیگا کہ میری رحمت تم کو حاصل ہوگئی اور اس کے لئے تم کو یہ کرنا ہوگاکہ تم اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دو، جہاں تم پہلے تھے ۔ دونوں ساتھ میں جائیں گے ، مگر دونوں میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا۔ اللہ تعالی اس کے لئے جہنم کو ٹھنڈا کر دے گا اور دوسرا اپنے آپ کو جہنم میں نہیں ڈالے گا۔ اللہ تعالی اس سے کہے گا کہ تم نے اپنے آپ کو ڈالا کیوں نہیں؟ تو وہ

جواب دیا: ’’اے اللہ ! اس امید پر ایسا نہیں کیا کہ جب تو نے ایک دفعہ جہنم سے نکال دیا ہے تو دوبارہ داخل نہیں کرے گا ۔‘‘

اللہ تعالی دونوں کو جنت میں داخل فرما دے گا۔ پہلے والے کو اس لئے کہ اس نے اللہ کے حکم میں کوئی کوتا ہی نہیں کی بلکہ اس کی تعمیل کی اور دوسرے کو اس لئے کہ اس نے اللہ کی رحمت پر پوری طرح یقین اور بھروسہ رکھا ہے کہ اللہ تعالی دوبارہ اپنی رحمت سے جہنم میں داخل نہیں کرے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: