بسم اللہ الرحمن الرحیم سب سے پہلے کس پیغمبر نے لکھی ؟؟؟

سورہ نمل ۔۔۔آیت نمبر 26۔۔25
اللہ تعالی کو کیوں نہی سجدہ کرتے جو آسمان اور زمین میں چھپی چیزیں باہر نکال لاتا ہے اور تمہارا چھپا اور تمہارا کھلا سب جانتا ہے اللہ تعالی ہی سچا معبود ہے اس کے سوا کوئ سچا معبود نہی وہ بڑے تخت عرش کا مالک ہے
تفسیر ابن کثیر ۔۔اس آیت پر ہدہد کی تقریر ختم ہوئ اس نے اللہ تعالی کی توحید پاکیزگی اور واحدانیت میں تقریر کی ۔۔

آیت نمبر ،28،29،30۔27
سلیمان عیلہ السلام نے کہا اچھا ہم دیکھتے ہیں تو سچ کہتا ہے یا تو بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے ،میرا یہ خط لے جا اور ان لوگوں ہر ڈال دے پھر وہاں سے ہٹ جا دیکھتا رہ وہ کیا جواب دیتے ہیں بلقیس نے اپنے درباریوں سے کہا سردارو میرے پاس ایک خط ڈالا گیا ہے جو عزت والا ہے وہ خط سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور اس ( عبارت یہ ہے ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔شروع اللہ کے نام سے جو بہت رحم کرنے والا ہے مہربان ۔۔

تفسیر ابن کثیر ۔۔بلقیس جو شراحیل شاہ یمن کی بیٹی تھی اور تین سو بارہ سردار اس کے درباری تھے ان میں سے ہر آدمی دس ہزار آدمیوں پر متعین تھا ۔۔۔۔قرطبی ۔

حضرت سلیمان نے وہ خط ہدہد کو دیا اور کہا یہ خط وہاں لے جا اور انہیں سنتا رہ اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ اور مجھ سے آکر بیان کر ہدہد وہ خط لے گیا اور بلقیس جہاں سوتی تھی ( روشندان ) سے جا کر اسکی چھاتئ پر وہ خط رکھ دیا ۔موضع ۔۔
روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہی لکھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم خط کے شروع میں باسمک اللھم ،،،،لکھا کرتے تھے جب یہ آیت اتری تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنے لگے

۔قرطبی ۔شوکافی ۔۔۔ترجمہ اشرف الحواشی تفسیر بالحدیث ابن کثیر ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: