اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹانے والے

واقعہ کر بلاظہور پذیر ہو چکا ۔ شہید کر بلا اپنی اپنی حق گوئی اپنی شجاعت اپنی بے خوفی اور سلام کی تجدید کے لئے اپنی قربانی دے چلے ۔

اہل بیت اللہ کے نام پر اپنا سب کچھ لٹا کر پاباز نجیر ہوگئیں۔ ایک قیامت تھی جو رسول خدا کے خاندان پر بیت گئی ۔ نومولود بچے سے لے حضرت امام حسین تک سب شہید ہوگے, ایک حکم تھا جس کی تعمیل کر دی گئی۔ حضرت امام حسین تک بھی راہ ایک فرض تھا جو ادا کر دیا گیا۔ ایک قربانی تھی جو اس شان سے دی کہ سابقہ تمام قربانیاں اس کے آگے دب گئیں۔ایک مخفی راز تھا جوعیاں ہو گیا ۔ حق گوئی کا ایک شعلہ رقصاں تھا جو کر بلا میں ظاہر ہوا اور قیامت تک حق وصداقت کے راستوں کو منور کر تا ر ہے گا ۔

اس قیامت صغری کے بعد شہید کر بلا کا سر مبارک ابن زیاد کے سامنے رکھا گیا وہ شقی القلب حضور کے دندان مبارک پر چھری مارنے لگ گیا۔ صحابی رسول حضرت زید بن راقم تڑپ اٹھے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہونے لگ گئی اور کہنے لگے۔ واللہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اکرم ﷺ کوان ہونٹوں کا بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ ہٹا اپنی چھڑی کو.

ابن زیاد کہنے لگا تم سٹھیا گئے ہوا گر مجھے تمہاری ضعفی کا خیال نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑادیتا۔ حضرت زید نے اس کو بددعائیں دیں اور اس کی مجلس سے اٹھ گئے ۔

حضرت بی بی زینب نے ابن زیاد کو مخاطب کر کے کہا،تو نے میرے سردار کوقتل کر دیا۔ میرا خاندان مٹا ڈالا میری شاخیں کاٹ دیں۔ میری جڑ اکھیڑ دی۔اس سے تیرا کلیجہ ٹھنڈا ہوسکتا ہے ہو جاۓ ۔ یزید کے دربار پہنچ کر فرمانے لگیں: اے یزید دختران رسول کو تو قید کرتا ہے حالانکہ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے ، میرے بھائی کے دین سے ، میرے نانا کے دین سے تو نے، تیرے باپ نے، تیرے دادا نے ہدایت پائی ۔ تو زبردستی حاکم بن بیٹھا ہے ۔ بادشاہی پر مغرور ہو گیا ہے اور اس زعم میں جو جی چاہتا ہے منہ سے نکال دیتا ہے۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: