چاند سے زیادہ خوبصورت ؟

لقد خلقنا الانسان في أحسن تقویم ( سورة این ) بے شک نام نے انسان و بهترین ساخت پر پیدا کیا ہے ۔“ اللہ تعالی نے انسان میں چار چیز یں ایسی رکھی ہیں جو کسی دوسری مخلوق میں یہ نہیں پائی جاتیں ۔

یعنی ظاہر میں انسان کا خوب صورت جسم باطن میں روح ، صفت ملکیت اور محبت الہی کا جذ بہ ۔ اس لئے انسان کو کائنات کی حسین ترین مخلوق قراردیا گیا ہے ۔ عیسی بن موی خلیفہ منصور عباسی کا ایک در باری تھا وہ چاندنی رات میں اپنی بیوی سے گفتگو کر رہا تھا اچا نک جذبات کی رو میں اس نے بیوی سے یوں کہہ دیا۔ ان لم تكوني حسن من القمر فانت طالق ثلاثاً “اگر تو اس چاند سے زیادہ حسیں نہ ہوتو تجھ پر تین طلاق ۔‘‘
بات تو اس نے کہہ دی مگر اس کا نتیجہ دور رس تھا۔ بات خلیفہ کے دربار تک پہنچی کہ ایسا کہنے سے واقعی طلاق ہوگئی ہے یانہیں علماء سے فتوی لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ طلاق پڑ گئی ہے کیونکہ عورت چاند سے حسین نہیں ہوسکتی ۔

دربار میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے ایک شاگر د بھی موجود تھے۔ خلیفہ ان کی طرف خاص طور پر متوجہ ہوئے کہ وہ بھی اپنی رائے دیں تو انہوں نے بسم اللہ شریف پڑھ کر سور واتین کی ابتدائی تین آیات تلاوت کیں اور کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو احسن تقویم فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ساری مخلوق میں سے حسین ترین ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کواحسن تقویم فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ساری مخلوق میں سے حسین ترین ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان جیسی کوئی ہستی کا ئنات میں پیدا ہی نہیں کی ،تو چاندایک انسان سے زیادہ بہتر کیسے ہوسکتا ہے۔ لہذاعورت چاند سے حسین ہے اور اس پر طلاق نہیں پڑی۔ اس استدلال سے سب لوگ مطمئن ہو گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: