حضور ﷺکے ساتھ خدیجہ رضہ کے لگاؤ کا سبب

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک بہت مالدار عورت تھیں اور بڑے بڑے دولت مندلوگ ان سے شادی کے خواہش مند تھے ,مگر انہوں نے انکار کر دیا تھا.

لیکن اب انہوں نے خود ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے آپ کو نکاح کے واسطے پیش کردیا…حالانکہ آنحضرت ﷺ کے پاس مال و دولت بالکل نہیں تھا….اس کا سبب ایک تو یہی تقدیری معاملہ تھا کہ اللہ تعالی کو ان کا مرتبہ بلند کرنا تھا لیکن اس کے علاوہ ابن اسحاق نے اس کا ایک سبب اور بھی ذکر کیاہے ,وہ کہتے ہیں.قریشی عورتوں کی ایک تقریب ہوا کرتی تھی,جس میں وہ مسجد حرام میں جمع ہوا کرتی تھیں…. چنانچہ ایک دفعہ وہ اسی طرح مسجد حرام میں جمع تھیں کہ ان کے پاس ایک یہودی آیا اور کہے گا…اے قریشی خواتین! تمہارے درمیان ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔ جس کے ظہور کا زمانہ اب قریب آ چکا ہے اس لئے تم میں جس کیلئے بھی ممکن ہو سکے وہ ضرور اس کی بیوی بن جائے …عورتوں کو اس کی اس بات پر بہت غصہ آیا اور وہ اس کو برا بھلا کہتی ہوئی اس پر پتھر مارنے لگیں… مگر حضرت خدیجہ اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گئیں اور یہ بات ان کے دل میں بیٹھ گئی…… چنانچہ اس کے بعد جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شام کے سفر پر بھیجا اور میسرہ نے ان کو آپ ﷺکی وہ نشانیاں بتلائیں جو اس نے دیکھی تھیں اور خودحضرت خدیجہ نے بھی آپ ﷺکی حیرت انگیز نشانیاں دیکھیں ….. کہ آپ ﷺپر فرشتے سایہ کئے ہوۓ تھے … تو ان کو یہودی کی بات یاد آگئی ….. ادھر انہیں اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کی بات بھی یاد آئی جو انہوں نے حضرت خدیجہ سے آنحضرت ﷺ کی نشانیاں سن کر کہی تھی …..انہوں نے اس وقت دل میں سوچا اس یہودی نے جو کچھ کہا تھا اگر وہ صحیح ہے تو وہ نبی اس شخص یعنی محمد صہ کے سوا کوئ دوسرا نہیں ہوسکتا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: