پانچ دینار میں سونے کا محل

کہیں پڑھایا سنا ہے کہ ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ نے اپنے محل سے دیکھا کہ بہلول دانا دریاکے کنارے بیٹھے ریت کے گھروندے بنارہے ہیں اور یہ آواز لگاتے جاتے ہیں ۔ پانچ دینار میں جنت میں ایک گھر ‘‘

زبیدہ نے لونڈی کے ہاتھ پانچ سودینار بھیج دیئے۔ جواب دیا کہ زبیدہ سے کہہ دینا کہ اسے جنت میں ایک گھر دے دیا اور دینار دجلہ میں بہا دیے

رات کو ہارون الرشید نے خواب دیکھا کہ جنت میں زبیدہ کو ایک خوبصورت مکان ہے صبح سبب پوچھا تو زبیدہ نے واقعہ بیان کر دیا۔ دوسرے روز بھی بہلول دانا گھروندے بنارہے تھے ,ہارون الرشید پانچ سو دینار لے کر خود پہنچا کہ مجھے بھی جنت میں ایک گھر چاہیے
جواب ملا ، دیکھنے کے بعد گھر نہیں ملا کرتا۔ ہارون نے کہا، اچھا یہ بتائے کہ آپ نے دینار دریا میں ڈال کر اللہ کی نعمت کو کیوں برباد کیا؟

جواب دیا تو تو اپنی عیش کوشیوں میں مصروف ہے، تجھے خبر بھی نہیں کہ تیری سلطنت میں ساحلی علاقہ ایسا بھی ہے جہاں قحط کا تسلط ہے۔ ایک ایک مچھلی ایک ایک دینار نکلے گی ۔ یہ سومچھلیاں قحط زدہ مقام تک پہنچیں گی جہاں مچھیروں نے جال ڈال رکھتے ہیں ۔ایک ایک ایک ایک مچھیرے کے جال میں آۓ گی۔ پانچ سو آدمیوں کو ایک ایک مچھلی بھی ملے گی اور اکی ایک دینار بھی

علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ ہارون الرشید اپنی تمام تر برائیوں کے ساتھ روزانہ سورکعت پڑھتا تھا اور ایک سال حج پر جا تا تھا ، دوسرے سال جہاد پر ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: