یہ سر پرکلفی لگاۓ کون ہے؟

جب رمضان المبارک میں بدر کا عظیم الشان معرکہ پیش آیا۔ تو کفار کی طرف ۔ عتبہ، شیبہ اور ولید میدان میں نکلے اور ان کے مقابلہ پر مسلمانوں کی طرف سے چند انصاری نوجوان آگے بڑھے.

لیکن متبہ نے پکار کر کہا محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہم نا جنسوں سے نہیں لڑ سکتے ۔ ہمارے مقابل والوں کو بھیجو‘ ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ ، حضرت علی اور حضرت عبیدہ کا نام لیا۔ حکم کی دیرتھی کہ یہ تینوں نیزے بلاتے ہوئے نیز روآ زمائی کے لیے اپنے حریفوں کے مقابل جا کھڑے ہوئے ۔ حضرت حمزہ کے مقابلہ ۔ عتبہ تھا۔ جسے آپ نے ایک ہی وار میں واصل جہنم کیا ، حضرت علی ” بھی اپنے حریف : غالب آۓ ۔ البتہ حضرت عبیدہ اور شعبہ میں دیر تک مقابلہ جاری رہا ،حضرت عبیدہ زخمی ہو گئے تو حضرت علی اور حضرت حمزہ نے حملہ کر کے شیبہ کوتہہ تیغ کر دیا۔ مشرکین نے طیش میں آ کر عام ہلہ بول دیا ۔ دوسری طرف سے مجاہدین اسلام بھی شیروں کی طرح کفار پرٹوٹ ے۔ گھمسان کا رن پڑا۔ حضرت حمزہ کے سر پر شترمرغ کی کافی تھی۔ اس لیے جس طرف گھس جاتے صاف نظر آتے تھے۔ آپ کے دونوں ہاتھوں میں تلوار میں تھی اور مردانہ وار دو دستی حملوں سے پرے کا پڑ اصاف کر رہے تھے غرض تھوڑی دیر میں جب کفار بہت سے قیدی اور مال غنیمت چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے ،تو بعض قیدیوں نے پوچھا کافی لگاۓ کون ہے؟ ‘‘ لوگوں نے کہا حمزہ ۔ بولے’’ آج سب سے زیادہ نقصان ہم کو اس نے پہنچایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: