ناموس سے کیا مراد ہے؟

ایک دوست نے پوچھا تھا، کہ پہلی وحی کے بعد جب رسول اللہ ﷺ اور ورقہ بن نوفل کی ملاقات ہوئی ، تو انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جو گفتگو کی تھی، اس میں انھوں نے کہا تھا، کہ جو کچھ تم نے بیان کیا ہے اگر سچ ہے تو ناموس موسی علیہ السلام کے مماثل ہیں، تو ناموس سے مراد کیا ہے؟ جواب افادہ عامہ کی غرض سے مختصرًا عرض ہے ۔

یہی واقعہ بخاری اور دیگر محدثین نے مختلف مقامات میں نقل کیا ہے، اور اکثر مصادر میں _ ورقہ بن نوفل جو حضرت خدیجہ ؓ کا چچا زاد بھائی ہے _ کے الفاظ کچھ یوں نقل کیے گئے ہیں” هذا النَّامُوسُ الذي أَنْزَلَ اللَّهُ علَى مُوسَى” یہاں عام محدثین ناموس سے مراد جبرائیل علیہ السلام مراد لیتے ہیں، لیکن ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ناموس کی ایک اور وضاحت کی ہے، جو یقیناً یہاں نقل کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر صاحب خطبات بہاولپور میں فرماتے ہیں، کہ ورقہ بن نوفل نے عیسائیت اختیار کر لی تھی، اور انھیں سریانی زبان آتی تھی، یہی وجہ تھی کہ انھوں نے سریانی سے عربی میں انجیل کا ترجمہ بھی کیا تھا، ان حالات میں کیا یہ ممکن نہیں کہ یہ سریانی زبان میں موجود ایک یونانی لفظ ہو، کیونکہ یونانی زبان میں توریت کو “ نوموس” (Nomos) ہی کہتے ہیں۔

مطلب یہ کہ جو پیغام آپ پر نازل ہوا ہے، وہ حضرت موسی علیہ السلام کی توریت سے مشابہ ہے، اور ڈاکٹر صاحب نے اسے معقول اور مناسب کہا ہے، کہ یہاں ناموس سے مراد جبرائیل علیہ السلام نہیں بلکہ “توریت “ ہے۔

عالم خان_ترکی


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: