محبت الہی کی برکت سے ہو گئے سب اپنے

شیخ عبدالواحد ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اللہ تعالی سے دعا مانگی کہاے اللہ! آپ نے جس کو جنت میں میرا ساتھی بناتا ہے دنیا میں میری اس سے ملاقات کراد یجئے ۔ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں بتایا گیا .حبشہ کی رہنے والی ایک عورت میمونہ ہے جو جنت میں تمہاری ساتھی بنے گی چنانچہ میں اس بستی کی طرف چل پڑا جا کریستی والوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ تو بکریاں چراتی ہے۔

اور اس وقت وہ باہر نہیں بکریاں چدار ہی ہوگی فرماتے ہیں کہ میں اس طرف چل پڑا جب میں نے بستی سے باہر نکل کر دیکھا تو حیران ہوا کہ بکریاں ایک ہی جگہ پر چر رہی ہیں اور ادھر ادھر بھاگتی نہیں ہیں اور ایک عورت درخت کے نیچے کھڑی نماز پڑھ رہی ہے۔ جب میں نے غور کیا تو میں نے بید یکھا کہ جہاں بکریاں چر رہی تھی اس چراگاہ کے کنارے پر مجھے کچھ بھیڑیے بیٹھے نظر آۓ ان بھیٹریوں کی وجہ سے وہ بکریاں کہیں باہر بھی نہیں بھاگ رہی تھیں اور ایک ہی جگہ پر چد رہی تھیں ۔۔ جب اس عورت نے سلام پھیرا اور مجھے دیکھا تو کہنے لگی ! عبدالواحد ! اللہ رب العزت نے ملاقات کی وعدہ گاہ تو جنت بنائی ہے۔

اس لیے تم دنیا میں کیسے آ گئے ! میں نے کہا کہ میں نے دعا مانگی تھی جو اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی البتہ اب میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے ایسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہی تھیں بکریاں چر رہی تھیں اور بھیڑیے بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ بکریوں کو کچھ کہہ بھی نہیں رہے تھے۔ مجھے اس راز کی سمجھ نہیں آرہی وہ کہنے گئی عبدالواحد امیہ بات بھی آسان ہے کہ جس دن سے میں نے اپنے پروردگار سے صلح کر لی ہے اس دن سے بھیڑیوں نے میری بکریوں سے صلح کر لی ہے تو معلوم ہوا کہ فــذكـرونـی اذکرم ‘‘ کا ایک مطلب یہ بنا کہ اے بندو! تم مجھ سے صلح کر لومیں مخلوق کی تمہارے ساتھ لے کردوں گا۔

(خطبات ذوالفقار : ۷۴۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: