شفاعت نبوی ﷺ کے درجے

علامہ قرطبی اور دیگر مفسرین نے قاضی ابوالفضل عیاض سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین یا پانچ شفاعتیں فرمائیں گے …..

(1) شفاعت عامہ: جس سے مؤمن و کافر… اپنے اور بیگانے سب مستفیض ہوں گے

(2) بعض خوش نصیبوں کے لئے بغیر حساب جنت میں داخل کرنے کی شفاعت فرمائیں گے……

(3) وہ موحد جواپنے گناہوں کے باعث عذاب دوزخ کے مستحق قرار پائیں گے …..

حضور ﷺکی شفاعت سے بخش دیئے جائیں گے…..

(4) وہ گنہگار جنہیں دوزخ میں پھینک دیا جاۓ گا…. حضور ﷺ شفاعت فرما کر ان کو وہاں سے نکالیں گے اور جنت میں پہنچائیں گے …..

(5) اہل جنت کے مدارج کی ترقی کے لئے سفارش فرمائیں گے…..

خودسوچئے! جس کا دامن کرم سب کو ڈھانپے ہوگا…. جس کی محبوبیت کا ڈنکا ہرجگہ بج رہا ہوگا …. جس کی جلالت شان اپنے بھی دیکھیں گے اور بیگانے بھی…..ایے میں کون دل ہوگا جو اس محبوب کی عظمت کا اعتراف نہیں کرے گا ؟ کون سی زبان ہوگی جو اس کی تعریف و توصیف میں زمزمہ سنج نہ ہوگی؟

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:…..

“انا سيد ولد أدم يوم القيامة ولا فخروبيدي لواء الـحـمـد ولا فخر وما من نبي يومئذ أدم من سواه الا
تحت لوآئی…“

” قیامت کے دن ساری اولاد آدم کا سردار میں ہوں گا…..جمد کا پر چم میرے ہاتھ میں ہوگا….سارے نبی میرے پرچم کے نیچے ہوں گے۔…. بیساری باتیں اظہار حقیقت کے طور کہہ رہا ہوں فخر و

مباہات مقصود نہیں …
(حوالہ تجۃ اللہ علی العالمین )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: