بہت ہی اہم تحریر

آج کل شادی بیاہ کا سیزن عروج پر ہے۔ ہر گلی ہر محلے میں شادیاں منعقد ہورہی ہیں۔ ان شادیوں میں رشتے داروں کے علاوہ دوست احباب بھی شریک ہوتے ہیں۔ ان شادیوں کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ ہماری شریف اور گھریلو بہنیں ڈانسر بن جاتی ہیں۔ جی ہاں ہمارے شریف اور گھریلو بہنیں بغیر کسی خوف و ڈر کے سب کے سامنے ناچتی ہیں۔ بھائی باپ شوہر سب کی موجودگی میں جب ہماری ماں بہن بیٹیاں اپنے اندر کی بےشرمی کو جگاتی ہے بھائی اپنی ماں بہن پر فخر کرتا ہے کہ اس کی ماں بہن کتنا اچھا ناچتی ہے۔

میرے جملے بہت تلخ ہیں لیکن ان میں حقیقت پوشیدہ ہے ۔جب تک ہم برائی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے برائی ختم نہیں ہوگی جب تک ہم برائی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو برائی کیسے ختم ہوگی ۔ اگر میرے جملے اور میرے الفاظ تو لکھو تو پیشگی معذرت ۔لیکن مجھے امید ہے کہ جس طرح باشعور افراد جہیز کے خلاف ہے اسی طرح ان رسموں رواج کے بھی خلاف ہوں گے ۔ کسی ایک فرد کے ذہن میں بھی اگر میری بات گھر کر گی تو میں سمجھوں گا کہ میرا حق ادا ہو گیا آپ بھی اپنی آواز اٹھائیں۔ ہماری نسلیں وہی فصل کاٹیں گی جو ہم بیج بوئیں گے ۔ اپنے اپنے گریبان میں جھا نکتے ہیں کہ ہم کیسے بیج بو رہے ہیں ؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: