تربیت اصل میں ہے کیا

تربیت اصل میں ہے کیا؟ اس کو جانتے ہیں۔ تربیت کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کی ابتدائی مراحل سے انتہا تک پہنچانا اور ان تمام مراحل میں اس کی تمام ضروریات پوری کرنا ہے۔ اب بچے کی پیدائش سے لے کر موت تک ک زندگی گزارنے میں جو جو مراحل پیش آتے ہیں ان تمام میں بچے کی رہنمائی کرنے کا نام تربیت ہے۔

ماہرین نفسیات اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ بچے کی پیدائش کے تین سال بعد سے اس کی تربیت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچہ ماں باپ اور ان کے خاندان سے 40 سے 50 فیصد اثرات لے کر اس دنیا میں آتا ہے لہذا شریک حیات کے انتخاب میں جذبات سے بالاتر ہوکر اپنے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ: اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں(التحریم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھا دے۔ والدین پر اولاد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی اولاد کا اچھا نام رکھیں اور ان کی اچھی تربیت کریں۔ (صحیح بخاری ( جلد 1 ص،222 )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے کہ: اپنی اولاد کو ادب سکھلاؤ کیونکہ قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا اور کس علم کی تعلیم دی۔ بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے۔ ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے اس کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔ غلطی ہو جانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے سمجھانا چاہئے اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے باوجود غلطی کرے تو اسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا کہا جائے۔

اگر پھر بھی باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جا سکتی ہے۔ تربیت کا یہ طریقہ نو عمر بچوں کے لئے ہے۔ اسی طرح جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے جاتے ہیں آپ تھوڑی سختی بھی کر سکتے ہیں۔ اس وقت بچے کی پٹائی تو نہیں کر سکتے لیکن اس سے قطع تعلق کیا جا سکتا ہے تاکہ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو۔ بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

اس پر اسے شاباش یا پھر کوئی تحفہ دینا چاہیے تاکہ کہ اس میں اچھا کام کرنے کا جذبہ اور شوق پیدا ہو۔ تربیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر وقت ڈنڈا اٹھا کر بچوں کے پیچھے لگے رہیں۔ تربیت میں محبت، پیار، شفقت، اصلاح اور ساتھ ساتھ سختی بھی شامل ہے۔ اللہ تعالی والدین کو اپنی اولاد سے متعلق ذمہ داریاں بہتر طریقے سے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: