اولاد کے حقوق

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام میں جس طرح اولاد کو ’’وبالوالدین احسانا ‘‘فر ماکر والدین کی فرمانبرداری کی ترغیب دی گئی ہے ،اسی طرح دین اسلام نے والدین کو اولاد کی اچھی تربیت کا بھی حکم دیا ہے ۔مگر ہمارے معاشرہ میں عام طور پر والدین کے حقوق کے حوالہ سے بات کی جاتی ہے۔

لیکن اولاد کے حقوق کی بات عمومی طور نہیں کی جاتی ہے ، یہ بات صحیح ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی بعض ایسے شقی القلب جوان موجود ہیں جو اپنے والدین کی اتنی شفقت و محبت کے باوجود بڑھاپے میں انہیں بوجھ سمجھتے ہیں اس لئے اس موضوع پر لکھنا ، بولنا ضروری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی ماں باپ کی اتنی شفقت و محبت کے ساتھ اس کی صحیح تربیت کی جاتی اور حقیقی معنوں میں اسکے حقوق جس میں بارز ترین مصداق تربیت ہے ادا کئے جائیں تو بڑھاپے میں یہ نوبت نہ آئے

بچوں کو احتراما نام سے نہ بلانا اے میرے لخت جگر، اے میرے بیٹے کہہ کر پکارا ہے ،جس سے پتہ چلا کہ نام لینے سے محبت کا وہ اظہار نہیں ہوتا ،جو’’ اے میرے بیٹے ‘‘کہنے سے محبت کا اظہارہوتا ہے ۔ جس طرح ماں لاشعوری عمر میں بچے کو محبت میں ’’میرالعل ،میراچاند ،میرامٹھو،میرا سوہنا‘‘ وغیرہ جیسے القاب سے پکارتی ہے اسی طرح جب بچہ شعوری عمر کو پہنچ جائے تو بھی اس سے اسی اندازِ محبت میں بات کریں گے تو ماں باپ کی بات بچے کے دل ودماغ پرزیادہ اثر انداز ہوگی ۔

محبت و شفقت سے مخاطب کرنے کے بعد میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا‘‘ ۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کو سب سے پہلی دینی عقائد وافکار کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ بڑا ہوکر وہ ایک اچھا اور سچا مسلمان بنے ۔ظاہر سی بات ہے جب اسکے عقائد صحیح ہوں گے تو اعمال بھی ان شاء اللہ صحیح ہوں گے،اگر عقائد قرآن واہل بیت علیھم السلام سے متصادم ہوئے تو یہ یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اچھے اعمال کرے گا یا نہیں؟،اس لئے سب سے پہلے بچے کو دینی تعلیم دی جائے، قرآن واہلبیت علھیم السلام کی تعلیم، ماہر ین قرآن و اہلبیت سے دلوائی جائے

میرے بیٹے! عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو روزِ محشر اللہ اسے تمہارے سامنے لے آئے گا۔‘‘اس ایک جملہ سے بچوں میں ایک امید کے ساتھ آئندہ کچھ بڑا کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، ماں باپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی ہر چھوٹی چیز پر اگر اچھا ہو اسے تشویق کریں لیکن کسی غلط کام پر اسے ایسے تنبیہ کرے کہ اس کا دل نہ ٹوٹے بلکہ امید میں اضافہ ہوجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: