اختلاف کے باوجودمحبت

رومیوں نے جب دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان جنگ گرم ہے تو انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ.

حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ۔ ان کو خط لکھا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم حق پر ہواس کے باوجود حضرت علی تم کو پریشان کر رہا ہے اور تمہارے ساتھ زیادتی کر رہا ہے ہم علی کے مقابلہ میں تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں ، تمہارا پیغام ملنے کی دیر ہے، ہم اپنا لشکر تمہاری مدد کے لئے فوراروانہ کردیں گے ۔ آپ جانتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز سمجھا جا تا ہے اور دوست دشمن ہر ایک سے مد دحاصل کی جاتی ہے لیکن قربان جائیے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اخلاص وللہیت پر کہ دو وہ انتہائی غریظ وغضب اور جنگ کی حالت میں بھی حدود سے تجاوز نہیں کر تے تھے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے رومی بادشاہ کے خط کے جواب میں لکھا: اور دی کتے! ہمارے اختلافات سے دھو کہ نہ کھاؤ اگر تم نے مسلمانوں کی طرف رخ کیا تو علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکر کا پہلا سپاہی جو تمہارے مقابلے کے لئے نکلے گا وہ معاویہ ہوگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: