حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آگ

پھر کیا ہوا، وہاں کے بادشاہ نمرودکو جو بہت ظالم اور بت پرست تھا،ان سب باتوں کا پتہ چلا کہ آزر کا بیٹا ابراہیم لوگوں کو بتوں کی پوجا سے منع کرتا ہے اور ایک خدا کی دعوت دیتا ہے تو اس نے ان کو اپنے دربار میں بلایا، اور آپ سے جھڑنے لگا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا خدا تو وہی ہے جو مارتا بھی ہے اور جلاتا بھی ہے۔نمرود نے کہا میں بھی مارسکتا ہوں اور جلا سکتا ہوں، چنانچہ اس نے ایک قیدی کو جس کو سزائے موت کا حکم ہو چکا آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو پکڑ کر قتل کرادیا اور کہا کہ اب بتاؤ کہ میرے اور تمہارے خدا کے درمیان کیا فرق ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میرارب ہر روز سورج مشرق سے نکالتا ہے تم اسے مغرب سے نکالدواس پر نمرود لا جواب ہو گیا اور حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو زندہ جلا دیا جائے ، چناں چہ بہت کی لکڑی اکٹھی کی گئیں اوران میں آگ لگائی گئی جب آگ بہت بھڑک اٹھی اور اس کے شعلے آسمان کی خبر لانے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس میں پھینک دیا گیا مگر وہ آگ خدا کے حکم سے ٹھنڈی ہوگئی ،اور آپ کو آگ سے کوئی تکلیف نہیں پہونچی۔ اس طرح جو لوگ اللہ تعالی کے کہنے پر چلتے ہیں، اللہ پاک ان کو ہر تکلیف سے بچالیتے ہیں، اور ان کے لئے آسانیاں ہی آسانیاں ہو جاتی ہیں اور جولوگ اللہ تعالی کا کہنا نہیں مانتے ان کے لئے اس دنیا میں مشکل ہی مشکل ہوتی ہے اور مرنے کے بعد تو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: