حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اور آپ ﷺ

حلیمہ سادیہ ہر اعتبار سے کمزور تھیں اور انھیں کوئی بچہ بھی نہیں ملا تھا۔ لہٰذا گھر بغیر بچے جانے کے یتیم محمد ﷺ کو گود لینا پسند کیا اور کافلے کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ حلیمہ نے سوچا میں بچے کو غسل کر ا دوں ۔ مشکیضے میں پانی بھر نے لگیں تو وہ گو یا ستاروں سے بھر گیا۔بڑی حیران ہو ئیں جب غسل دیا ۔پھر مسکیضے سےستارے نکل رہے تھے۔

پھر اس کےبعد حضرت حلیمہ کے خاوند حارث نے کہا کہ حلیمہ بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے ہیں ۔حلیمہ نے کہا میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہی ہوں۔ بچے سحر ہو کر دودھ پئیں گے ۔ چنا نچہ ایسا ہی ہوا۔ قافلے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔حلیمہ کے جو جانور آتے ہوئے جو چل نہیں رہے تھے۔ وہ اب دوڑ رہے تھے۔ دو سال کے بعد حلیمہ حضرت محمد ﷺ کو لے کر ان کی والدہ کے پاس آئیں ۔ ان کی والدہ نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دیا کہ ابھی اپنے پاس ہی رکھیں۔اچھی آب و ہوا میں صحت اور اچھی ہو جائے گی۔

مزید دو سال بعد حلیمہ نے دیکھا کہ آپ گھر کے با ہر کھیل رہے تھے۔ ایک فرشتے نے آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کر کے قلب اکہر نکا لا ۔ اس کو آ ب زم زم سے دھو یا اور پھر واپس سینے میں چھوڑ دیا ۔ اس واقعے سے حلیمہ خوف زدہ ہو گئیں اور حضرت محمد ﷺ کو والدہ کے پاس لے آ ئیں اور سارا واقعہ بھی سنا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: