بیماری کے وقت کی دعائیںاور اذکار

جب انسان کسی سخت بیماری میں مبتلا ہوتو یہ دعا بکثرت مانگتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالی نے حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف اسی دعا کی برکت سے دور فرمائی تھی۔ یہ دعا سورت انبیا کی مختصر سی آیت ھے۔وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهُ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْن۔ اس دعا سے انسان ہر قسم کی بیماری سے محفوظ ہوجاتا ھے اور اگرکسی کو کوئی بیماری ہوتو اس دعاسے مکمل ختم ہوجاتی ھے۔

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص بھی کہے: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [ترجمہ: اللہ کے نام سے میں پناہ حاصل کرتا ہوں جس کے نام سے کوئی بھی چیز آسمان یا زمین میں تکلیف نہیں پہنچاتی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے]

جس نے یہ دعا صبح کے وقت تین بار پڑھی تو شام تک اسے کوئی بھی ناگہانی آفت نہیں پہنچے گی ۔” اس حدیث کو ابو داود: (5088) اور ترمذی: (3388) نے روایت کیا ہے اور صحیح بھی قرار دیا ہے، تاہم ترمذی میں اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں: ” جو شخص بھی یہ کلمات بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ [ترجمہ: اللہ کے نام سے میں پناہ حاصل کرتا ہوں جس کے نام سے کوئی بھی چیز آسمان یا زمین میں تکلیف نہیں پہنچاتی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے] صبح اور روزانہ شام کے وقت کہتا ہے تو کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاتی۔”

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: “اللہ کے رسول! مجھے رات کو بچھو کے کاٹنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوئی” تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اگر تم شام کے وقت کہہ دیتے کہ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ [ترجمہ: میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام تر مخلوقات کے شر سے] تو تمہیں وہ نقصان نہ پہنچاتا) اس حدیث کو مسلم: (2709) نے روایت کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: