میں مشغول تھی کہ

“میم پلیز مجھے کچھ گائیڈ کر دیں گیں آپ میں نیو کنورٹ ہوں؟” نماز جمعہ کے لیے یونیورسٹی کی مسجد میں بیٹھے ایک اجنبی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا.. میں جو اپنی پریشانیوں میں غلطاں اللہ سے ٹوٹی پھوٹی دعائیں مانگنے اور گلے شکوے کرنے میں مشغول تھی۔

یکدم اسکی جانب متوجہ ہوئی.. دھان پان سی لڑکی سر پر سکارف اوڑھے میرے سامنے کھڑی تھی.. اپنے خیالات کو جھٹک کے دعاؤں کو بیچ میں چھوڑنے پر مجبور ہو گئی کہ اسکے چہرے پر شدید بےبسی تھی. میں نے اسے پاس بٹھا کر پوچھا کیا بات ہے..کہنے لگیں “میں کرسچین تھی اور یہیں اسی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ ہوں اور میں نے کرونا سے پہلے اپنے تئیں اسلام قبول کر لیا تھا۔

یونیورسٹی کے اسلامک سٹوڈنٹ کاؤنسل سے وقتاً فوقتاً گائڈنس لیتی رہتی تھی لیکن کرونا کی وجہ سے گھر جانا پڑا، جہاں میری اسلامی تعلیمات سیکھنے کے عمل میں شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی، اب آپ مجھے نماز سکھا دیں میں جمعہ پڑھ لوں ” سوچا مجھ گنہگار کا کونسا عمل قبول ہوا ہے جو اتنے لوگوں میں اس نے مجھے چنا ہے.. گلے شکوے اب کچھ کچھ احسان مندی میں تبدیل ہو گئے اور اسے نماز کا طریقہ کار بتانا شروع کیا. بندی کیوٹ اتنی کہ جب سنتیں پڑھانا شروع کیں تو بولنے پر ٹوکا نماز میں بات نہیں کرنی تو؛ یکدم کہا “اوکے سوری اب نہیں بولتی” سوچا اسکی یہ ادا اللہ کو نہ بھائے تو کیا بھائے.

نماز کے بعد اسکے ساتھ تھوڑی بہت گفتگو کرنے کا موقع ملا تو اس نے بتایا میرا تعلق ایک کٹر عیسائی خاندان سے ہے، اور مجھے اپنے پادری صاحب سے بہت اختلافات ہیں.. ایک شخص جو میرا باپ ہے ہی نہیں اسے کیونکر باپ مانوں اور وہ میرا محرم کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ میری بہن سے اسلیے چکنی چپڑی باتیں کرتا ہے کیونکہ میں نے اسکی تعلیمات کو یکسر مسترد کر دیا ہے.. مجھے اچھا نہیں لگتا وہ ایسے بےدھڑک میرے گھر میں داخل ہوتا ہے، مجھے اسکے چھونے سے کوفت ہوتی ہے اور میری بہن کو چھوئے تو میرا خون کھولتا ہے. میں نے چرچ جانا چھوڑ دیا ہے۔

ہر اتوار کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتی ہوں، اب تو جیسے گھر والوں کو شک ہونے لگا ہے کیونکہ میں ایسی نہیں تھی.. بہت کٹر ہوا کرتی تھی.” وہ بولتی جا رہی تھی اور میں اندر اندر سے پشیمانی کے سمندر میں ڈوب رہی تھی کہ اللہ نے اپنی رحمت اسلام سے نوازا ہے پھر بھی اور دکھوں کا دکھ کھائے جا رہا ہے… اسکی تڑپ میرے جیسے عام مسلمان کے لیے قابلِ رشک تھی۔

مصلحتاً بھی اسے سمجھانا چاہا کہ فی الحال چرچ جاؤ،اگر گھر والوں کو کچھ اور نہ ملا تو سیدھے شادی کرا دیں گے تمہاری… اس سے اچھا ہے کچھ عرصہ چپ رہو، اپنے رسول اللہ کی مثال دی کہ مصلحتاً کچھ عرصہ چھپ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے، چاہتے تو سب کچھ اللہ پر چھوڑ کر ببانگ دہل کرتے لیکن انہیں بھی مصلحت سے چلنے کی تاکید تھی… ” اس طرح کی کچھ اور مثالیں دیں لیکن وہ سنجیدہ سی لڑکی دل میں ایمان کا ایسا سمندر لیے ہوئے تھی جس کا کوئی کنارہ نہیں تھا ۔

کہنے لگی آپکی باتوں سے تسلی ہو گئی ہے لیکن سچ کہوں تو مجھے چرچ میں کوفت ہوتی ہے… میں کوشش کرکے دیکھوں گی اسکا ہر سوال مجھے بےچین کر رہا تھا.. میرا دل کیا اسے اپنے ساتھ لے آؤں جو کہ ناممکن تھا. اسلام کے نام پر کچھ خرافات سے بھی آگاہ کیا… جس پر اسے “نام کے مسلمانوں” کی طرح کوئی اعتراض نہیں تھا کہ یہ تو انڈر سٹوڈ ہے کہ فرقے ہونگے.. عیسائیت میں بھی ہیں.. آپ جو کہیں گیں میں وہی کروں گی.

میں بہت بے چین رہتی ہوں اللہ نے میرے لیے اسلام کو اتنا لاحاصل کیوں بنا رکھا ہے؟ ” “اللہ جی میرے ناتواں کندھوں پر یہ کیسا بار ہے جو اتنی بڑی ذمہ داری کے قابل سمجھا مجھے ؟” حوصلہ مجتمع کرکے اسے ایک امام سیلیکٹ کرنے کو کہا.. کہنے لگی” ٹھیک ہے یہ ریسرچ کر لوں گی میں لیکن مجھے یہ بتائیں کہ جب میں گھر جاتی ہوں تو میرا بھائی مجھے لینے آتا ہے اور عشاء کا وقت ہوتا ہے لیکن اذان نہیں ہوئی ہوتی ، کیا میں بغیر اذان کے نماز پڑھ سکتی ہوں کیونکہ میرا بھائی انتظار نہیں کرتا میرا.. اور گھر میں پانچ بہن بھائیوں کے ہوتے یہ ممکن نہیں کہ کہیں بھی چھپ کر نماز پڑھوں “؟

اسکے سوال نے جھنجھوڑ کے رکھ دیا.. اتنی بےچینی تو مجھے بھی نہیں ہوئی کبھی … میں کیسے اسے گائیڈ کروں میں تو خود اس سے سیکھنا چاہ رہی تھی کہ اللہ کو پانے کی اتنی تڑپ کیسے ، جہاں میں اپنے شکوؤں کا انبار لیے بیٹھی تھی.. جواب دیا” آپکے لئے چھوٹ ہے، آپ گھر میں نہیں پڑھ سکتی تو پڑھ لیا کرو مسجد آکر” شاید اللہ مجھے یہی سمجھانا چاہ رہے تھے کہ اصل دکھ ان سے پوچھو جو چاہ کر بھی اسلام کی پیروی نہیں کر سکتے. کبھی خاندان کا خوف تو کبھی معاشرے کا. میں اپنے تمام تر دکھ بھول کر اسے سمجھانے میں جت گئی کہ یوں نہیں ہو سکتا تو یوں کر لیا کرو، یوں نہیں تو یوں.. بس جو بس میں تھا سوچتی گئی اور کہتی گئی. آخر میں مجھ سے چاروں امام کے نام، تمام نمازوں کے رکعات اور فون نمبر لے کر نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی.۔

جہاں مسلمان لڑکیاں آدھے لباس میں نہ صرف گھوم رہی تھیں بلکہ “نیت” کے دم پر نماز تک پڑھ رہی تھیں وہاں یہ اللہ کی بندی پورے لباس میں اللہ کی رحمت کی طلبگار تھی… جہاں مسلمان لڑکیاں نیل پالش لگا کر وضو کرتیں وہاں اس نے میک اپ تک کا پوچھا کہ نیل پالش میں تو وضو نماز نہیں ہوتے لیکن کس قسم کے میک اپ میں بھی وضو نہیں ہوتا.. محض نیت نہیں بلکہ عمل سے اللہ کی تلاش میں سرگرداں تھی. جہاں ہم مسلمان ہوتے بھی “اچھی نیت” سے اللہ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔

میں جواب دیتی گئی اور ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کرتی رہی.. آخر میں الحمد للہ کہا کہ جس اسلام کو ہم فار گرانٹڈ لیتے ہیں اسے ہم سے بہتر سمجھنے والے موجود ہیں.. ہم اسلام پہ یقین رکھیں نہ رکھیں، اسکے احکامات کی پیروی کریں نہ کریں لیکن یہ اپنے لیے معیاری پیروکار ڈھونڈ نکالے گا.. اسلام نہیں بلکہ ہم خطرے میں ہیں، یہ تو وہ تناور درخت ہے جو اپنے کمزور پھل خود گرا دے گا اور مضبوط پھل آخر تک لگے رہیں گے… سروائیوول آف دی فٹسٹ کے مانند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: