دنیا ایک امتحان گاہ

دنیا میں آدمی کو دو قسم کے احوال پیش آتے ہیں کبھی پانا اور کبھی محروم ہو جانا .

یہ دونوں ہی حالتیں امتحان کے لئے ہیں۔ وہ اس جانچ کے لئے ہیں کہ آدمی کس حالت میں کونسا رد عمل پیش کرتا ہے۔

جس شخص کا معاملہ یہ ہو کہ جب اس کو کچھ ملے تو وہ فخر کرنے لگے اور جب اس سے چھن جائے تو وہ منفی نفسیات میں مبتلا ہو جائے ایسا شخص اس امتحان میں ناکام ہوگیا_

دوسرا انسان وہ ہے جب اس کو ملا تو اس نے اللہ کے سامنے جھک کر اس کا شکر ادا کیا اور جب اس سے چھینا گیا تو اس نے اللہ کے آگے جھک کر اپنے عجز کا اقرار کیا یہی دوسرا انسان ہے جس کو یہاں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے یعنی مطمئن روح۔ہر حال میں اللہ کا شکر اداکریں تاکہ قرب الہی حاصل ہو.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: