انسان کی ناشکری

جب میں اپنی بیٹی کو پھل کاٹ کر پلیٹ میں ڈال کر دیتی ہوں نا تو وہ چند کاشیں بڑے سکون اور تمیز سے کھاتی ہے۔

پھر جب اسکا پیٹ تھوڑا بھر جاتا ہے تو وہ پھل کے ٹکڑوں سے کھیلنے لگ جاتی ہے۔ پلیٹ میں انہیں گھماتی رہتی ہے۔کچھ مزید کھا لینے کے بعد وہ پھل کو مسلنا اور اپنے چہرے پہ پھیرنا شروع کر دیتی ہے۔ (جی بالکل فیشل کے انداز میں) اور بھوک مکمل مٹ جانے کے بعد مجھے بچی ہوئی ساری کاشیں اور ٹکڑے جابجا بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔

وہ اپنے ہاتھ چہرہ اور کپڑے خراب کر چکی ہوتی ہے۔اور وہ ٹکڑے اسکے کام کے رہتے ہیں نہ کسی اور کے۔
ایسا تب ہوتا ہے جب میں اسے پوری پلیٹ تھما کر اس کے حال پہ چھوڑ دیتی ہوں۔علم تو مجھے ہوتا ہے کہ وہ کیا کر رہی ہوگی لیکن میں نے توجہ نہیں کی ہوتی۔
اور جب میں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہوں تو جیسے ہی اندازہ ہو کہ اس کا پیٹ بھر گیا ہے میں اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے لیتی ہوں وہ روتی اور ضد کرتی رہ جاتی ہے لیکن میں پلیٹ واپس نہیں کرتی کیونکہ مجھے علم ہوتا ہے کہ یہ اب رزق ضائع کرے گی۔میں وہ پھل اس نیت سے محفوظ کرلیتی ہوں کہ دوبارہ جب اسے ضرورت ہو گی یعنی بھوک لگے گی تو میں یہ پلیٹ اسے واپس تھما دوں گی۔
تو میں سوچ رہی تھی کہ الله ﷻ بھی اپنے بعض بندوں کو کبھی یونہی نعمتوں سے مالامال کر کے ان کے حال پہ چھوڑ دیتا ہے وہ مال ودولت کی فراوانی میں بھٹک جاتے ہیں۔
اور نعمتوں کو یوں ضائع کرنے لگ جاتےہیں کہ دنیاوآخرت تباہ کر بیٹھتے ہیں۔
اور بعض کو اللہ ان کی ضرورت کا رزق عطا کرتا ہے۔جب ضرورت نہ ہو تو ان کا ہاتھ تنگ بھی کردیتا ہے انسان چاہے روتا رہے کسی چیز کیلئے لیکن اللہ مناسب وقت آنے سے پہلے اسے وہ چیز نہیں دیتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بغیر ضرورت کے ملی ہوئی چیز کی قدر نہیں ہوگی۔پھر وہ وقت آنے پر پھر سے اپنی رحمتوں کا در کھول دیتا ہے۔
ضرورت کے وقت نوازتا ہے
جتنی ضرورت ہو اتنا نوازتا ہے۔
تنگی دکھا کر نعمتوں کی قدر کرنا بھی سکھاتا ہے۔
اور اس تنگی کے بدلے آخرت کیلئے بھی ہمارا حصہ محفوظ کرلیتا ہے۔
بےشک وہ ستر ماوٴوں سے زیادہ محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: