میری امت اور ان کے گناہ

‏سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول کریم ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے تھے: ” میری تمام امت کے گناہ بخشے جائیں گے مگر ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو فاش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی رات کو ایک گناہ کا کام کرے۔

پھر صبح ہو اور پروردگار نے اس کا گناہ پوشیدہ رکھا ہو وہ دوسرے سے کہے: اے فلانے! میں نے گزشتہ رات کو ایسا ایسا کام کیا، رات کو تو پروردگار نے اس کو چھپایا اور رات بھر چھپاتا رہا، صبح کو اس نے پردہ کھول دیا۔“ حدیث نمبر: 7485 صحيح مسلم

توبہ انسان کی پہلی، درمیانی اور آخری منزل ہے، بندہ سالک اُسے کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتا، مدت تک توبہ اور رجوع کی حالت میں رہتا ہے۔ اگر ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر اختیار کرتا ہے تو توبہ اس کا رفیق ہوتا ہے جہا ں وہ جائے، پس توبہ بندہ کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی، بلکہ ابتدا کی طرح موت کے وقت اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘( مدارج السالکین، صفحہ: ۱۴۱)

توبہ دل کا نور ہے،نفس کی پاکیزگی ہے، توبہ انسان کو اس حقیقی زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ: اے غافل انسان !آؤ! قبل اس کے کہ زندگی کا قافلہ کوچ کر جائے اور موت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آ موجود ہو۔

توبہ کرنے والوں کی ہم نشینی اختیار کر لیں،کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ قبر محض ایک گڑھا نہیں،بلکہ جنت کے باغو ں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ (کما رواہ الترمذي في سننہ عن أبي ھریرۃ ؓ،کتاب صفۃ القیامۃ:۴/۶۳۹-۶۴۰،رقم الحدیث : ۲۴۶۰ )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: