علم اور عقل

حضور حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللّہ علیہ آپ فرماتے ہیں:

”علم اور عقل عشقِ الٰہی کی راہ کی بڑی کمزوری ہے عشقِ الٰہی میں وہ لُطف وسرور ہے کہ اگر کسی جید عالم کو اس کا ذرہ سا مزہ مِل جائے تو وہ تمام علمیت بھول کر عشق الہی میں گُم ہوجائے۔”

(کلید التوحید کلاں)

آپؒ ایک پنجابی بیت میں فرماتے ہیں:

عشق سمندر چڑھ گیا فلک تے کتول جہاز کچیوے ھو
عقل فکر دی ڈونڈی نوں چا پہلے پوڑ بوڑیوے ھو

کڑ کن کپڑ پون لہراں جد وحدت دچ وڑیوے ھو
جس مرنے تھیں خلقت ڈر دی باھو عاشق مرے تاں جیوے ھو

عشق کا دریا چڑھ کر وحدت کے بحرِبیکراں تک پہنچ گیا ہے۔فقر تو محض عشق کی راہ ہے اس میں عقل کا کیا کام۔ اس لئے عقل و فکر کی ناکارہ کشتی کو پہلے دن ہی ڈبو کر اس سے نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ دریائے وحدت میں جب طالب داخل ہوتا ہے تو تکالیف’ مشکلات اور مصائب کے خطرات کا تو سامنا کرنا ہی پڑتا ہے اور جس موت سے خلقت ڈرتی ہے عاشق کو اِسی موت کے بعد حیاتِ ابدی نصیب ہوتی ہے۔

عشق کا کھیل ایسا ہی نرالا ہے جسے ﷲ کے عشق میں بے چین وبے قرار’ صادق دل طالب’ عقل اور خرد کی حدود سے نکل کراپنی زندگی اور مال ومتاع داؤ پر لگاکر کھیلتے ہیں۔اگر جذبے صادق ہوں تو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری اور دیدارِ حق نصیب ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ یہ عشق ہی ہے جو دیدارِ حق تعالیٰ کا راستہ وا کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی ماہیت کو سمجھنے کے لیے عقل کے ہزار ہا ہزار قافلے سنگ سار ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ پاسکے ۔ فقراء نے عشق ہی کے راستہ سے دیدارِ حق تعالیٰ کی نعمت حاصل کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: