اللہ کس طرح ناکامیوں میں کامیابی پیدا کرتا ہے

فرعون کو کتنی بڑی حکومت عطا کی اللہ نے۔ بغاوت کرتا جا رہا ہے، ظلم کرتا جا رہا ہے، خون بہاتا جا رہا ہے، ماؤں کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کرتا جا رہا ہے بظاہر کوئی بددعا نہیں لگ رہی اسے۔

بنی اسرائیل کی ایمان والی مائیں جن کے سامنے فرعون کے فوجی ان کے بچے چھین کر ذبح کرتے تھے لیکن فرعون کا بال بھی بیکا نہیں ہورہا۔ یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام آگئے، فرعون کو تبلیغ کیے جارہے ہیں، اس کو دلائل دیے جارہے ہیں لیکن اس کا ظلم بجائے کم ہونے کے موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ کرنے پر بڑھتا چلا گیا۔

یہاں تک کہ ایمان والے لوگ جو جانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام واقعی ہی اللہ کے نبی اور کلیم اللہ ہیں وہ بھی بول پڑے اے موسیٰ تیرے آنے سے پہلے بھی عذاب میں تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی عذاب میں ہیں وہ کہہ رہے کہ ظلم تو ہم سہے ہی رہے تھے لیکن تیری تبلیغ کی وجہ سے ہمارے اوپر اور ظلم کے پہاڑ ڈھا دیے فرعون نے۔

“قَالُـوۡۤا اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا وَمِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا‌ؕ
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور تیرے آنے کے بعد بھی”
(سورہ الاعراف، 129)

اور موسیٰ علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں

“قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡ
اے میری قوم صبر کرو اور اللہ سے مدد طلب کرو”
(القرآن)

اللہ ظالم کو بھی آزما رہا ہے اور مظلوم کو بھی آزما رہا ہے۔
قوم کو آزما رہا کہ ان میں صبر کتنا ہے اور فرعون کو مہلت دے رہا کہ تجھے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ کمزور لوگ تیرا کیا بگاڑ لیں گے۔ بلکہ فرعون تو حضرت موسیٰ کو طعنے دیتا تھا کہ تو غریب، فقیر کیا کر لے گا میرا۔ تجھے یاد نہیں کہ تجھے میں نے پالا پوسا اب بڑا ہو گیا ہے تو میرے ہی سامنے کھڑا ہو گیا ہے بڑا ہی کوئی ناشکرا انسان ہے تو

قَالَ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ●
ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر نہیں کی.
(القرآن، سورہ الشعراء)

ظلم اتنا بڑھتا جا رہا، اتنا بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں سے امید کی کرن نظر نہیں آرہی قوم جب پوچھتی موسیٰ علیہ السلام سے تو ان کا جواب آتا کہ صبر کرو اور اللہ سے مدد مانگتے رہو اور دلیل کیا دیتے ؛ زمین کا مالک کون ہے؟ زمین کا مالک اللہ ہے۔ زمین کا مالک فرعون نہیں ہے۔ زمین پر اصل حکومت تو اللہ کی ہے بس وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے وقتی طور پر مالک بنا دیتا ہے۔ہم بندہے ہیں ہمارا کام ہے دعا کرنا اور صبر کرنا اگر اللہ اگر فرعون کی حکومت ختم نہیں کر رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ختم نہیں کر سکتا بلکہ اس میں اس کی کوئی حکمت ہے۔

“اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ؕ
زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے”
(القرآن)

آخر وقت تک بنی اسرائیل کی قوم کو آزمایا گیا۔ اللہ نے وحی بھیجی اور حضرت موسیٰ نے راتوں رات قوم کو خبر دی کہ مصر کو چھوڑ کے بھاگ جاؤ۔

وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِىۡۤ اِنَّكُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ‏●
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا.
(القرآن)

قوم کو تسلی ہوئی کہ اب اللہ کی مدد آ رہی ہے اب ہم مصر کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور پھر ایسی جگہ پر جا کر بس جائیں گے جہاں پر فرعون سے جان چھوٹ جائے گی۔ قوم رات کو بھاگی لیکن اللہ کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا۔
پوری قوم جب رات کو نکلی تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فرعون کو خبر بھی نہ ہو، اللہ مدد کرے قوم کی اور سارے چپکے چپکے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں اور فرعون خراٹے لے کر سوتا رہے۔ اصل میں بنی اسرائیلی یہی توقع کر کے بیٹھے تھے کہ موسیٰ کلیم اللہ نے آج تک تو کوئی بات غلط نہیں کی آج نکلیں گے تو جان پکی چھوٹ جائے گی۔

لیکن اللہ نے کہا ابھی نہیں، میں یہ دنیا کو دکھاؤں گا کہ ناکامی کے تمام تر نقشوں میں اور تمام تر اسباب ایسے ہوں گے کہ تمہیں نظر آئے گا کہ صرف ناکامی ہی ناکامی ہے اور %100 ناکامی ہے میں اس میں تمہیں کامیاب کر کے دکھاؤں گا۔

جیسے فرعون کو پتہ چلا یہ سارے شہر چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں۔ اس کو چڑھا غصہ اور اس نے اپنی فوج سے کہا ان کا پیچھا کرو یہ تھوڑے سے لوگ ہیں۔ یہ سارے بھاگ رہے ہیں پیچھے ہمارے کام کون کرے گا، ہماری فیکٹریاں اور کارخانے کون چلائے گا۔ مجھے بڑا غصہ دلا رہے ہیں یہ تو ان کو پکڑو۔ میرے ٹکڑوں پر پلے اور بھاگ رہے ہیں مجھے بڑا غصہ آ رہا ان سب پہ

فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِىۡ الۡمَدَآٮِٕنِ حٰشِرِيۡنَ‌ۚ‏●
فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئے.
وَاِنَّهُمۡ لَـنَا لَـغَآٮِٕظُوۡنَۙ‏●
یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں.
(القرآن)

فرعون نے قوم کے پیچھے فوج لگائی اور اللہ ابھی تک بھی امتحان لے رہا اور ناکامی کے راستے پیدا کرتا جا رہا ہے کہ tension میں بنی اسرائیل کی قوم راستہ بھول گئی ایسی جگہ جا نکلی جہاں آگے دریا تھا اور پیچھے فرعون کی فوج آگئی۔ آگے نظر ڈالتے تو دریا پیچھے نظر ڈالتے تو فرعون کی فوج۔ اب تو قوم کی جان نکل گئی کہ نسلیں ذبح کروا بیٹھے آج جان چھوٹنے لگی تھی تو ایسا پھنسے کے آگے دریا اور پیچھے فرعون کی فوج ہے اب تو موت ہی موت ہے صرف۔ چلو اتنا ہی ہوتا کہ کسی غلط ٹریک پر چلے جاتے کہ وقتی طور پر تو جان چھڑواؤ فرعون سے بعد کی بعد میں دیکھا جائے گا لیکن آزمائش بھی ایسی کہ آگے دریا اور پیچھے فوج تو قوم نے کہا اے موسیٰ مروا دیا آج، پکڑے گئے اب نہیں بچتے

فَلَمَّا تَرَآءَ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰٓى اِنَّا لَمُدۡرَكُوۡنَ‌ۚ‏●
جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے.
(القرآن)

اب موسیٰ علیہ السلام کو بھی نہیں پتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے کیوں کہ آگے پانی اور پیچھے فوج۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام کو اللہ پے یقین تھا کہ جس اللہ نے مجھے اس قوم کا نبی بنایا ہے اس قوم کو مروانے کے لئے نبی نہیں بنایا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ مجھے امیدیں دلا کر اور یہاں آکر میرا ہاتھ چھوڑ دے میرا اللہ ایسا نہیں کرے گا تو حضرت موسیٰ نے کہا میرا اللہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا

قَالَ كَلَّآ‌‌ ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ‏●
موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا اللہ میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا.
(القرآن)

ابھی حضرت موسیٰ نے اتنا کہا ہی تھا کہ اللہ نے وحی بھیجی کہ موسیٰ سمندر میں لاٹھی مارو ہم راستہ بنا دیں گے

فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ‌ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ‌ۚ
اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ۔
(القرآن)

اللہ نے راستہ ایسا بنایا کہ دونوں طرف سے موجیں آکر آسمان کی طرف اٹھ رہی ہیں اور پہاڑ بن گئی اور درمیان میں نکلنے کا خشک راستہ بن گیا۔

فرعون نے دیکھا کہ راستہ بن گیا لیکن انسان جب طاقت کے نشے میں ہوتا ہے تو وہ اندھا ہو جاتا ہے۔ فرعون دیکھ رہا ہے کہ یہ ایک معجزہ ہے کہ عام حالات میں ایسا نہیں ہو سکتا جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ میرے لئے کیوں کرے گا ایسا کیونکہ میں نے تو اللہ کی آج تک ایک بات نہیں مانی۔ لیکن طاقت، دولت اور سلطنت کے نشے نے اسے اتنا اندھا کردیا کہ اس نے اپنی فوج کو کہا کہ اترو اس راستے میں۔ اللہ کی قدرت دیکھیں اللہ نے پانی کو تب تک نہیں ملایا جب تک پہلا اور آخری بندہ اندر نہیں اترا۔ جیسے ہی سارے بندے اندر اترے اللہ نے موجوں کو آپس میں ملا دیا اور فرعون سمیت سب کے سب کو غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کی قوم کو ان کے صبر پر آج فرعون سے نجات دے دی

ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ‌ؕ‏●
پھر دوسروں کو ڈبو دیا
(القرآن)

تو میرے دوستو وہ قوم گزر گئی لیکن یہ سب قرآن میں اللہ نے ہمیں سمجھانے کے لیے بتایا کہ تم جو بیٹھے بیٹھے چاہتے ہو کہ میں اِدھر سے پانچ نمازیں پڑھوں اور اُدھر سے رزق کے دروازے کُھل جائیں، اُدھر سے یہ بھی ہو جائے وہ بھی ہو جائے، یہ بھی ٹھیک ہو جائے وہ بھی ٹھیک ہو جائے فوراً، ایک دم سے رزق میں برکت آ جائے، ایک دم سے سب fit اور fine اور depression ختم ہو جائے تو ایسا نہیں ہے۔ اللہ ہمیں پریشانیوں سے بچائے لیکن ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ صرف صبر کر کے میرے اوپر یقین کر کے دیکھو میں تمہارے لیے وہاں سے کامیابیوں کے راستے پیدا کروں گا جہاں سے تمہیں کامیابیوں کے سارے راستے بند نظر آئیں گے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: