عشق کی شرعی حیثیت

قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا.

عزیز مصر کی بیوی کو یوسف علیہ السلام سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔

عشق عقل کے میزان میں:

عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی،

بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔

مثال درکار ہو تو لیلی کے مجنوں کو دیکھ لیجئے، سسی کے پنوں کا جائزہ لیجئے، ہیر کے رانجھے کی داستان پڑھیے۔

اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد پھرتے، آہیں بھرتے، رت جگا کرتے، ہر شے سے بےخبر، بس اک معشوق میں مگن کسی نوجوان کو دیکھ لیجئے جو آپ کو عین انہی صفات کا حامل نظر آئے گا جو اوپر درج کی گئی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس شدید اور سب سے زیادہ محبت کو ظاہر کرنے کےلیے لفظ عشق کا استعمال جائز ہے؟؟؟؟

تو اس کا صاف، سیدھا ، واضح اور دو ٹوک جواب یہی ہے کہ نہیں اس کی بہت سی وجوہات ہیں
مثلاً:

1 لفظ عشق کا معنی اور مفہوم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کےلیے استعمال کیا جائے کیونکہ عشق میں جو محبت ہوتی ہے، وہ شہوت سے پُر ہوتی ہے۔

2؛ اگر اس معنی سے صرف نظر کرلیا جائے اور بڑی بڑی پگڑیوں والے اپنے آپ کو عاشق کہلوابھی لیں تو کیا خواتین کےلیے اس لفظ کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی کہ وہ بھی

عاشقان رسول کہلوا لیں؟
اگر نہیں تو کیوں؟
کیا خواتین کےلیے الگ اسلام ہے اور مردوں کے لیے الگ؟

3: اہل بیت سے محبت ، عقیدت اور ان کی عزت کا خیال رکھنے کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔
(صحیح مسلم: 2408)

اہل بیت میں ازواج مطہرات اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی شامل ہیں،

کیا ان کےلیے بھی یہی لفظ استعمال کیا جائے گا؟
جو لوگ ازواج مطہرات کو اہل بیت سے خارج سمجھتے ہیں اور پنجتن پاک کا نعرہ لگاتےہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں پنجتن پاک سے محبت اور عشق ہے کیا وہ اس پنجتن کے ایک ایک فرد کا نام لے کر عاشق ہونے کا اظہار کرسکتے ہیں؟

مثلاً: عاشق رسول، عاشق علی، عاشق حسن، عاشق حسین تو ہر کوئی کہلوانے کو تیار ہوجاتا ہے لیکن عاشق فاطمہ لوگ نہیں کہلواتے آخر کیوں؟

وجہ ظاہر ہے کہ سب سمجھتے ہیں کہ لفظ عشق کا استعمال مقدس ہستیوں کے لیے استعمال کرنا جائز درست نہیں ۔

4 ہر شخص یہ بات کہتا ہے کہ مجھے اپنے اہل خانہ سے محبت ہے مجھے اپنے والدین سے محبت ہے مجھے اپنی بہنوں سے محبت ہے کیا کوئی شخص اس بات کو زبان پر لا سکتا ہے کہ میں اپنی والدہ یا بہن یا بیٹی کا عاشق ہوں؟

اگر نہیں تو کیا اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہی اتنی گئی گزری ہے کہ بےتکلف لوگ اپنے آپ کو عشق الہٰی میں غرق اور عاشق رسول کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟؟؟

اصلاح_معاشرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: