حضرت ابراہیم ع کا بتوں کو توڑنا

حضرت ابراہیم السلام ان لوگوں سے کہتے کہ تم لوگ کیوں ان بتوں کو پوجتے ہو، یہیں نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ۔مگر وہ جواب دیتے کہ جو ہمارے باپ دادا کرتے ہیں وہی ہم کر رہے ہیں۔

ایک روز ان لوگوں کا شہر سے باہرکوئی بڑا میلہ ہوا یہ سب لوگ اس میلے میں شریک ہونے شہر سے چلے گئے ،حضرت ابراہیم اس میلے میں نہ گئے ،ان کے پیچھے حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک کے بڑے بت خانے میں گئے اور وہاں کے سب بتوں کو توڑ ڈالا سواۓ ایک سب سے بڑے بت کے۔اور کلہاڑی جس سے سب بتوں کو تو ڑا تھاوہ اس بڑے بت کے کاندھے پر رکھدی جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب اس نے توڑے ہیں۔ لوگ جب واپس آئے اور انھوں نے بتوں کی بیڈرگت دیکھی کہ کسی کاسر نہیں ہے تو کسی کا پیرنہیں تو بہت غصہ ہوۓ کہ یہ حرکت کس نے کی ہے، سب نے شبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر کیا کہ وہی بتوں کو برا کہتے تھے، اور میلے بھی نہیں گئے تھے آخر ان کو بلا کر پوچھا کہ یہ بہت کس نے توڑے ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ مجھ سے پوچھنے کے بجاۓ اپنے خداؤں سے کیوں نہیں پوچھتے جن کی تم عبادت کرتے ہو، کہ ان کو کس نے توڑا ہے وہ خود بتادیں گے۔

ان لوگوں نے جواب دیا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ بول نہیں سکتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ پھر تم ایسے بیکار خداؤں کی پوجا کرتے ہو، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر کہا کہ دیکھو کلہاڑی بڑے بت کے کاندھے پر رکھی ہے، یہ کام اس کا معلوم ہوتا ہے، اس سے پوچھو، یہ لوگ بہت ناراض ہوۓ ، اور ان کے باپ آزر سے شکایت کی کہ تمہارا بیٹا ایسی حرکت کر رہا ہے اس کو سمجھالو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو بھی سمجھایا، اور بت پرستی سے منع کیا ، اور عرض کیا کہ اے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تم پر خدا کا کوئی عذاب نازل نہ ہو، اس پر ان کے باپ بہت سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ آئندہ تو نے مجھ سے کوئی ایسی بات کہی تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا ، اور کہا کہ تو میرے پاس سے ہمیشہ کے لئے چلا جا، آپ نے باپ کو سلام کیا اور کہا کہ میں چلا جا تا ہوں لیکن تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: