اللہ کی راہ میں پہراداری کا انعام

ابو ربیجانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں حضور کے ساتھ تھا.

ایک رات ہم لوگوں نے ایک ٹیلہ پر پناہ پکڑ لی سردی اس قد رشدید تھی کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ گڑھے کھودتے اور اس میں گھس جاتے اور اس کے اوپر سے ڈھال رکھ لیتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا کہ اس رات میں جو میری پہرو داری کرے گا، میں اس کے لیے اللہ پاک سے دعا کروں گا جس کی فضیلت اسے حاصل ہوگی ۔ایک انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمیں اس خدمت کو بجالاؤں گا ، آپ نے فرمایا تم کون ہو؟ انہوں نے کہامیں فلاں ہوں آپ نے فرمایا قریب آ ؤ ، جب بی قریب آۓ آپ نے ان کے کپڑے کا کنارا پکڑ کر ان کو ڈ عاد بنی شروع کی ، ابوریحانہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے آپ کی دعائنی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں بھی پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوں ۔ آپ نے فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا ابوریحانڈ ۔ آپ نے میرے لیے بھی دعا کی ،مگر میرے ساتھی سے کم ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ آگ اس شخص پر حرام کر دی گئی جس نے اللہ کے راستے میں پہرہ داری کی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: