معجزہ ﷺ اور صحابی کا قبول اسلام

کتاب اصل یعنی عیون الاثر میں سابقین اولین یعنی ان بہت سے صحابہ کرام کے نام شمار کرائے گئے ہیں جو اسلام کے ابتدائی زمانے میں مسلمان ہوۓ.

ان ہی میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ان نام بھی ہے مسلمان ہونے کا جوسبب ہے وہ خود وہی بیان کرتے ہیں کہ … میں ایک روز عقبہ ابن معیط کے خاندان کی بکریاں چرا رہا تھا اس وقت رسول اللہ ﷺ وہاں آگئے ….. آپ ﷺ کے ساتھ ابوبکربھی تھے ….. آنحضرت ﷺ نے مجھ سے پوچھا:….کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟ … میں نے عرض کیا …. جی ہاں! ہے مگر میں امین ہوں ( یعنی دودھ امانت ہے ) آپ ﷺ نے پوچھا:… کیا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جس پر ابھی تک کوئی نر نہ اتراہو… یعنی جو اب تک کا بھن نہ ہوئی ہو؟ میں نے کہا ….. ہاں….اس کے بعد میں ایک ایسی بکری آپ کے پاس لے کر آیا جس کے اب تک تھن نہیں لکے تھے ….. آپ نے اس کے تھنوں کی جگہ ہاتھ پیرا…اس وقت اس بکری کے تھن دودھ سے بھر کر لٹک گئے ….. کتاب عیون الاثرمیں یہ واقعہ اسی طرح ہے ….. غرض حضرت ابن مسعود ﷺ فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کو ایک صاف پتھر کے پاس لے آیا جہاں آپ نے اس بکری کا دودھ دوہا پھر آپ نے حضرت ابوبکر ﷺ لے آپ *کو بھی وہ دودھ پلایا اور مجھے بھی پلایا…. اس کے بعد خود آپ نے کے بعد آپ نے بکری کے تھن سے فرمایا….. جا… چنانچہ و تن فورا ہی پھر ویسے ہی ہو گئے جیسے پہلے تھے یعنی ان کا وجود ہی نہیں رہا۔…..

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: