قریب ترین راستہ

ایک وقت تھا کہ مسلم معاشرے میں خانقاہ ایک زندہ ادارہ تھا جس میں آدم سازی اور آدم گری کا کام ہوتا تھا. صوفیا کی زندگی کی نمایاں خوبیوں میں سے ایک خوبی اللہ کے بندوں کے حق میں دل کو حسد اور کینے سے پاک رکھنا تھا۔

اخلاق کی اس اعلی فضیلت کے باعث وہ نفرتیں کرنے کے بجائے محبت تقسیم کرنے والے لوگ تھے. انسانوں سے محبت کا محرک کبھی جنسی شہوت بھی ہو سکتی ہے، کسی کے مادی اور دنیاوی مقام کی وجہ سے کسی تعریف یا اور غرض کی لالچ بھی؛ ان محرکات کو اگر کوئی چیز سفلی مقام سے اٹھا کر بالا کر سکتی ہے تو وہ اللہ کی رضا کا سچا جذبہ اور دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے اخلاص کی نسبت ہے. صوفیا تو اپنے ہاں ایک نظم کے ساتھ سالک پر محنت کرتے تھے تاکہ اس کے من کا میلاپن دھل سکے. آج دلوں میں نہ وہ جذب باقی رہا اور نہ وہ ادارے باقی رہے تاہم مسلم دنیا میں تجدید و احیاے دین کی تحریکیں ان اداروں کا کافی حد تک بدل ہیں۔

جنھوں نے انسانوں کو دین کے ساتھ جوڑے رکھا. بات لمبی ہو گئی. اصل میں ایک مختصر عمل کی ترغیب دینا مقصود تھا جس کے بارے میں مولانا محمد زکریا صاحب ر ح نے لکھا ہے کہ یہ اللہ کے قرب کا سب سے نزدیک ترین راستہ ہے. وہ عمل سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ و سلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا ہے. اس عمل سے بندہ اللہ اور فرشتوں کے عمل میں شریک ہو جاتا ہے. اس کے ساتھ گناہوں سے اپنی حفاظت کی پوری کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے. یہ عمل انسان کی دعا اور عبادت میں بھی طاقت کا سبب بنتا ہے. ہمارا دل جتنا ایمان کے مرکز پر ٹکتا چلا جائے، یہ آج کی مادیت کے ظلماتی فتنوں کے مقابلے میں ڈھال ہے۔

اس کے ساتھ تھوڑی ذہانت اور تھوڑا علم بھی حفاظت کا ذریعہ ہے ورنہ دل اگر نا محکمی کے مرض کا شکار ہے تو اعلی ذہانت اور زیادہ علم کے ساتھ بھی بعید نہیں ہے کہ انسان کا دل لادینیت کے ہاتھوں مغلوب ہو کر رہ جائے. آج بعض اوقات مدرسوں کے فاضل بھی زندگی کے میدان میں آ کر جو دین کا جوہر کھو رہے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ طالب علمی میں دل کی دنیا پر صحیح توجہ نہیں دے سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: