وہ ایک سجدہ

رات کے سوا گیارہ بجے، پہاڑی کی ڈھلان سے نیچے اترتے میری نظریں نہ تو دور شہر کی جھلملاتی روشنیوں پر ہیں اور نہ ہی آسمان پر چمکتے حسین ستاروں پر. راستے کے ساتھ موجود گھروں کے پائیں پاغوں میں لگے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو روح کو سرشار کر دیتی ہے. مگر میں مسکراتے لبوں کے ساتھ گاڑیوں کی اس لمبی قطار کو دیکھ رہی ہوں جو ڈھلان کے اختتام پر مسجد کے صدر دروازے میں داخل ہورہی ہے. اردگرد شاندار مکانات اور سینئرز کے اپارٹمنٹس سمیت سارا شہر گھنٹوں پہلے تاریکی کی چادر اوڑھے سو چکا ہے۔

ہر طرف خاموشی ہے . صبح سب کو غم دوراں کے درماں کے لئےجو نکلنا ہے اسی لئے رات اوڑھ کر جلدی سو گئے ہیں. مگر یہ کچھ عجیب لوگ ہیں جو ہر رات جب کہ باقی سب اپنی نیند کا ایک حصہ بھی پورا کر لیتے ہیں ، خوب تیار ہو کر، جلدی جلدی ایک عجیب حزبے سے سرشار اپنے گھروں سے نکلتے ہیں. حضرات تیز تیز قدموں سے چلے جارہے ہیں، خواتین اپنے لبادے سنھبالے رواں دوان ہیں، آگے آگے بچے بھی اچھلتے کودتے چلے جا رہے ہیں. مسجد میں داخل ہو جایے، تو آپ کو گمان ہوتا ہے کہ کسی پر مسرت تقریب کا اہتمام ہے. مسکراہٹیں، تسلیمات ، اداب، خیرخیریت کا تبادلہ ہورہا ہے.. حجاب اور عبایا بھی ہیں، سکرٹس اور پینٹس بھی، عرب بھی ہیں اور عجم بھی، گورے بھی اور کالے بھی. کچھ نوافل پڑھ رہے ہیں، کچھ تلاوت کر رہے ہیں اور کچھ خوش گپیوں میں مصروف ہیں ۔

ادھر موذن اذان دیتا ہے اور ادھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ ،جلدی سے سیدھی صفیں بناے ، ہاتھ باندھے اور سر کو جھکاۓ کھڑے ہو جاتے ہیں. کیسا دلربا نظارہ ہے. اعتکاف کے لئے بھائیوں کے حجرے لگے ہیں. اور رات گئے جب مسجد سے باہر تاریکی اور خاموشی میں نکلیے تو ایسا لگتا ہے کہ کسی اور دنیا میں آگئے ہیں. رمضان ہمیشہ سے ہی ہم سب کے لئےایک بہت پر رونق موقع رہا ہے. جس سے ہماری بہت پیاری یادیں وابستہ ہیں. سحری میں اٹھنے کا شوق، روزہ رکھنے کے لئے اصرار ، افطاری کے لذیذ لوازمات کے لئے بے تابیاں اور پھر عید کی تیاری. اپنوں سے اور اپنے وطن سے دور انسان ڈرتا ہے کہ اجنبیوں کے دیس میں یہ ماہ کیسا گزرے گا۔

مگر الله کے بندوں نے صحراؤں سے لے کر برفستانوں تک، پہاڑوں سے لے کر میدانی علاقوں تک اپنے رب کی محبت میں کیسی بستیاں بسائی ہیں. یہاں بھی وہی چہل پہل ہے، وہی رونق ہے. بچے خوش ہیں کہ یہ کیسی تقریب ، یہ کیسا تہوار آیا ہے کہ سارے مہینے اس کی رونقیں چلتی رہتی ہیں. آج فلاں انٹی کے گھر سے افطاری انی ہے، آج ہم نے سب کے گھر بھیجنی ہے، کل مسجد میں معتکفین کے لئے کھانا بھجوانا ہے، مساجد اور تنظیموں کی جانب سے انفاق فی سبیل الله کی صدائیں سن کر بڑے ہی نہیں، بچے بھی اپنے منی بینک ٹٹولتے ہیں. سب نے اپنے لمبے سفید لبادے اور شلوار قمیصیں، اور نت نےحجاب بہت اہتمام سےنکالے ہیں کہ ہر روز مسجد جانا ہوتا ہے. غیر مسلموں میں دعوت کے کیپمس لگے ہیں، شامی مہاجرین ، نرسنگ ہومز اور خواتین کے دارالامان کے لئے تحائف جمع ہو رہے ہیں۔

غرضیکہ دیکھیے کس طرح عقیدے اور عمل کی بنیادوں پر ایک بے حد خوبصورت ثقافت تیار ہوتی ہے. رمضان راہبوں کا روکھا پیکھا، خشک تہوار نہیں کہ سارا دن بھوکا پیاسا رہنے ، بے وقت اٹھنے سونے اور عبادت کی مشقت کا خیال اسے کوئی بوجھل شے بنا دے. یہ تو ایک ایسی روحانی مسرت لے کر اتا ہے جو ملنے والے ہر شخص کے چہرے اور گفتگو سے عیاں ہے.
یہ اور بات کہ اگر کوئی شے “عادت” بن جاۓ تو انسان اس کے انوکھے پن کی مسرت کو کھو بیٹھتا ہے. رب کریم نے نیکیوں کا ایک ایسا موسم بہار ہمیں عنایت کیا جو ہمارے لئے قرب الہی ، تزکیۂ نفس، صلہ رحمی، خدمت، محبت اور خوشیوں کا پورا پیکج لے کر اتا ہے۔

بڑے محروم ہیں ہم کہ اگر اس کی روح سے خالی ہو کر اسے ایک بوجھل عادت یا روزمرہ کے طور پر لیں. کل ہی خواتین کے ایک حلقے کے ساتھ قران کریم مکمل کیا ہے. سب ہی اعلی تعلیم یافتہ خواتین تھیں، جن کے ذہنوں میں الجھنیں بھی تھیں، شکوے بھی، اور دبی چھپی سی محبتیں بھی. مگر ہم نے مل کر قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا. وہ ساری باتیں جو فضول بحثوں کی گرد میں بدنما معلوم ہوتی ہیں، مکمل متن کے ساتھ اور سیاق و سبق کی روشنی میں پڑھیں تودل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔

اسی لئے انکار خدا کے اس شور میں کچھ لوگوں کو رات کے اس پہر جوق در جوق ساری بقراطیوں اوربحثوں سے لاتعلق ، خدا کے گھر کی طرف رواں دواں دیکھتی ہوں تو لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیل جاتی ہے. کیسا اچھا ہو کہ یہ سارے لوگ محبت، رحمت اور خدمت کے اس حقیقی پیغام کو سمجھ کر شعوری طور پر اسی ذوق و شوق سے اپنی زندگیوں کا مقصد بنا لیں. خدا کے احسان فراموشوں کی ساری دوڑ دھوپ کے بالمقابل عالم جذب میں کیا گیا وہ ایک سجدہ کیسا بھاری ہے، یہ دیکھنا ہو تو دوران نماز صف در صف جھکنے والوں کو دیکھ لیجیے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: