ہمارے پیارے نبی ﷺ اور بچے

پہلے نمبر پر وہ رو کر مانگتے ہیں اور اپنی بات منوا لیتے ہیں ۔ دوسرے نمبر پر وہ مٹی سے کھیلتے ہیں اور غرور و تکبر خاک میں ملا دیتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جو مل گیا وہ کھا لیتے ہیں زیادہ ذخیرہ یا جمع کرنے کی ہوس نہیں رکھتے۔چوتھے نمبر پر لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں۔

اور پھر صلح کرلیتے ہیں یعنی دل میں حسد کینہ اور بغض نہیں رکھتے۔ پانچویں نمبر پر مٹی کا گھر بناتے ہیں اور کھیل کر گرا دیتے ہیں یعنی وہ بتاتے ہیں کہ یہ دنیا باقی رہنے والی نہیں بلکہ ختم ہو جانے والی ہے۔ اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو بچوں والی عادتیں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور صراط مستقیم پر چلنے کی ہدایت دے آمین یا رب العالمین

ننھے بچوں کی زبان ہی ذائقے نہیں پہچانتی بلکہ ان کے منہ کے مختلف حصے مثلاً تالو، پیچھے کا حصہ اور کنارے بھی ذائقوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اس لیے وہ ہر قسم کا ذائقہ فوراً پہچان جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نومولود بچوں میں ذائقے پہچاننے کی قوت بڑوں سے تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

ننھے بچے آنسو پیدا کرنے والی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ابتداً وہ آنسو صرف آنکھوں کی حفاظت اور نمی برقرار رکھنے کے لیے بہاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آنسو پیدا کرنے والے غدود جنم لیتے ہیں ۔ یہ عمل تب ہوتا ہے جب بچے کی عمر ایک سے تین ماہ کے درمیان ہو جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: