قارون کی تباہی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قارون نام کا ایک بہت بڑا مالدار شخص تھا.

سورہ قصص میں بیان ھوا ھے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اتنے خزانے عطا کر رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا ھی آدمیوں کی ایک جماعت کے لیے بہت بھاری بوجھ تھا مگر ان نعمتوں پر شکر گزاری کے بجائے فخر و غرور اور نمائش و دکھاوا اس کا معمول تھا. اس کا کہنا یہ تھا کہ یہ مال اسے اس کی علم و صلاحیت کی بنا پر ملا ھے.

آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس کے گناھوں کی پاداش میں اسے اس کے مال سمیت زمین میں دھنسا دیا. مال بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ھے لیکن اس نعمت کی حقیقت یہ ھے کہ انسانوں کو بطور آزمائش دیا جاتا ھے. وہ آزمائش کیا ھے؟

اس دنیا میں جس کو جو ملا ھے صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے ملا ھے. عام مشاھدہ ھے کہ دنیا میں بڑے بڑے ذھین اور با صلاحیت لوگ جوتیاں چٹخاتے پھرتے ھیں اور بے ھنر لوگ دیکھتے ھی دیکھتے مالدار ھو جاتے ھیں. لوگ اسے قسمت کہتے ھیں در حقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی تقسیم ھے.

یہ تقسیم ھمیشہ غیر متوازی کی جاتی ھے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاھتے ھیں کہ پیسے والے لوگ مال پا کر قارون بنتے ھیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ جان لیتے ھیں کہ یہ مال اصل میں انہیں ضعیفوں کی وجہ سے ملا ھے۔

جو لوگ قارون بنتے ھیں ان کا انجام بھی قارون جیسا ھو گا لیکن جو لوگ اسے عطیہ الہی سمجھ کر غریبوں پر خرچ کرتے ھیں انہیں اللہ کے نبی کے ساتھ بسادیا جائے گا……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: