بادشاہ وقت کی عاجزی

ناصر الدین خلف شمس الدین التمش اپنے بھائیوں اور جواں ہمت بہن رضیہ سلطانہ کے بعد تخت پر بیٹھا۔

بیت المال میں کڑوڑوں روپیہ موجود تھا۔ مگر اس نے اپنا گزارواپنی کمائی پر رکھا اور دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دیتا رہا۔ عربی اور فارسی کی کتابوں کو نقل کر کے روزی کمانے غریب آدمیوں کی طرح اپنا وقت بسر کرتا ۔ جو کچھ درکار ہوتا کتابیں نقل کر کے کمالیتا۔ مگر خزانہ کو ہاتھ نہ لگاتا۔ طبیعت میں انکسار تھا اور شاہانہ زندگی میسر بھی اس کے گھر میں کوئی بھی کنیز نہیں تھی ۔ ایک دفعہ اس کی بیوی نے کہا کہ تنہا کام کرتے کرتے میرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں کوئی ملازم رکھ دیجئے تو آپ نے فرمایا بیگم میں بادشاہ ہوں لیکن سلطنت کے روپیہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔ اس لئے کہ وہ رعایا کا مال ہے ۔ رعایا کی بہبودی میں خرچ ہونا چاہئے ۔ میں ایک غریب آدمی ہوں ۔ میری آمد نی جیسا کہ تم سے مخفی نہیں قلیل ہے ۔ اتنی گنجائش نہیں کہ کوئی ملازمہ رکھ سکوں ۔ آخر غریب آدمیوں کی بیویاں بھی تو اپنے ہاتھ سے تمام کام کرتی ہیں ۔ دنیا میں چند روز و تکلیف برداشت کر لو خدا اس کا اجر دے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: